Main Icon

باب:ناموں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4759

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ أُتِيَ بِالْمُنْذِرِ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ وُلِدَ فَوَضَعَهٗ عَلٰى فَخِذِهٖ فَقَالَ: مَا اسْمُهٗ؟ قَالَ: فُلَانٌ: لَالٰكِنْ اِسْمُهٗ الْمُنْذِرُ . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن سهل بن سعد قال أتي بالمنذر بن أبي أسيد إلى النبي صلى الله عليه وسلم حين ولد فوضعه على فخذه فقال: ما اسمه؟ قال: فلان: لالكن اسمه المنذر . (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سہل ابن سعد سے فرماتے ہیں کہ منذر ابن ابی اسید کو نبی صلی الله علیہ وسلم کی بارگاہ میں لایا گیا ۱∞؎جب کہ وہ پیدا ہوئے تو اسے حضور نے اپنی ران پر رکھا فرمایا اس کا نام کیا ہے عرض کیا فلاں فرمایا نہیں لیکن اس کا نام منذر ہے ۲؎(مسلم، بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎سہل ابن سعد ساعدی مشہور صحابی ہیں،مدینہ کے آخری صحابی آپ ہی ہیں کہ آپ کی وفات سے مدینہ صحابہ سے خالی ہوا،منذر تابعی ہیں،ثقہ ہیں ابو اسید کا نام مالک ابن اسعد ہے۔(اشعہ)۲؎پتہ نہ چلا کہ ان کا پہلا نام کیا تھا۔حضور انور نے منذر نام رکھا منذر کے معنی عالم فقیہ بھی ہوسکتے ہیں، رب تعالٰی فرماتاہے: "لِیَتَفَقَّہُوۡا فِی الدِّیۡنِ وَلِیُنۡذِرُوۡا قَوْمَہُمْ"تو اس نام میں اچھی فال بھی ہے کہ یہ بڑے ہوکر عالم فقیہ بنیں۔ (مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4759