Main Icon

باب:ناموں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4753

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسلم: " لَا تُسَمِّيْنَ غُلَامکَ يَسَارًا وَلَا رِبَاحًا وَلَانَجِيْحًا وَلَا أَفْلَحَ فَإِنَّكَ تَقُولُ: أَثَمَّ هُوَ؟ فَلَا يَكُونُ فَيَقُولُ لَا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَفِي رِوَايَةٍ لَهٗ قَالَ: لَا تُسَمِّ غُلَامکَ رِبَاحًا وَلَا يَسَارًا وَلَا أَفْلَحَ وَلَا نَافِعًا

وعن سمرة بن جندب قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لا تسمين غلامک يسارا ولا رباحا ولانجيحا ولا أفلح فإنك تقول: أثم هو؟ فلا يكون فيقول لا " رواه مسلم. وفي رواية له قال: لا تسم غلامک رباحا ولا يسارا ولا أفلح ولا نافعا

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سمرہ ابن جندب سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ اپنے غلام کا نام نہ یسار رکھو ۱∞؎نہ رباح نہ نجیح اور نہ افلح ۲؎کیونکہ تم کہو گے کہ کیا یہاں وہ ہے ہوگا نہیں تو کہے گا نہیں ۳؎(مسلم)اور مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ اپنے غلام کا نام نہ رباح رکھو نہ یسار نہ افلح نہ نافع ۴؎

شرح حدیث

۱∞؎غلام سے مراد مطلقًا لڑکا ہے خواہ بیٹا ہو یا غلام یا کوئی اور،وہ جس کا نام رکھنا ہمارے قبضہ میں ہو۔نہی تنزیہہ کی ہے یعنی یہ نام بہتر نہیں۔
۲
؎یسارکے معنی ہیں فراخی،عسرکا مقابل،رباحکے معنی ہیں نفع خسارہ کا مقابل،نجیحکے معنی ہیں کامیاب ظفریاب،افلحکے معنی ہیں نجات والا یہ ممانعت صرف ان ناموں میں محدود نہیں بلکہ ان جیسے اور نام جن کی معنی میں خوبی و عمدگی ہو جیسے ظفر،برکت وغیرہ۔(اشعہ)یہ نام نہ رکھنا بہتر ہے اس کی وجہ خود بیان فرمارہے ہیں۔
۳
؎تو اس صورت میں تمہارے گھر سے نفع ،فتح،نجات کی نفی ہوجاوے گی نام رکھے تھے نیک فالی کے لیے مگر جب ان کی نفی کی گئی تو بدفالی ہوگی۔
۴
؎اس روایت میں نافع نہ تھا یہاں نافع بھی ہے۔خیال رہے کہ سب سے اعلیٰ و افضل نام محمد اور احمد ہے کہ رب کے محبوب کے نام ہیں پھر ابراہیم،اسماعیل وغیرہ کہ حضرات انبیاء کے نام ہیں،پھر عبدالله عبدالرحمن عبدالستار وغیرہ کہ ان میں اپنی عبدیت اور الله کی ربوبیت کا اعلان ہے،بے معنی یا برے معنی والے نام ممنوع ہیں جیسے،بدھو،تلو یا جیسے نسیم،ریاض،جاوید،اختر وغیرہ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4753