Main Icon

باب:ناموں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4773

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَنَّانِي رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ بِبَقْلَةٍ كُنْتُ أَجْتَنِيهَا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ الا مِنْ هٰذَا الْوَجْه. وَفِي الْمَصَابِيْحِ صَحَّحَهُ

وعن أنس قال: كناني رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ ببقلة كنت أجتنيها. رواه الترمذي وقال: هذا حديث لا نعرفه الا من هذا الوجه. وفي المصابيح صححه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے میری کنیت اس سبزی سے رکھی جسے میں چنا کرتا تھا ۱∞؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث وہ ہے جسے صرف اسی وجہ سے ہم پہچانتے ہیں اور مصابیح میں سے صحیح کہا۲؎

شرح حدیث

۱∞؎اس گھاس کا نام حمزہ تھا جیسے فارسی میں ترہ تیزک کہتے ہیں اردو میں ترہ تیزی،اس کے پتے میتھی کے ساگ کی طرح ہوتے ہیں مزہ ترش کچھ تیزی کے ساتھ میتھی کے ساگ میں اکثر یہ بھی آجاتی ہے،بچے اسے بڑے شوق سے کھاتے ہیں یعنی میں یہ گھاس(حمزہ)چن کر لاتا خود کھاتا اوروں کو کھلاتا تھا اس لیے حضور نے میری کنیت ابو حمزہ رکھی یعنی حمزہ والے۔
۲
؎یہ حدیث ایک اسناد میں غریب ہے دوسری اسناد میں صحیح،ایک ہی حدیث صحیح بھی ہوسکتی ہے اور ضعیف بھی،حسن بھی، غریب بھی مختلف اسنادوں سے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4773