Main Icon

باب:ناموں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4761

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَقُولُوا: الْكَرْمُ فَإِنَّ الْكَرْمَ قَلْبُ الْمُؤْمِنِ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " لا تقولوا: الكرم فإن الكرم قلب المؤمن ". رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہیں سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرمایا کرم نہ کہو کیونکہ کرم مؤمن کا دل ہے ۱∞؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎اہلِ عرب انگور کو اس لیےکرمکہتے تھے کہ اس سے شراب بنتی ہے شراب پی کر انسان نشہ میں بہت سخی بن جاتا ہے کہ اپنا مال جائز ناجائز جگہ خوب اڑاتا ہے،وہ سمجھتے تھے کہ انگور شراب کی اصل ہے اور شراب کرم و سخاوت کی اصل لہذا انگور گویا سراپا کرم و سخاوت ہے جب شراب حرام کی گئی تو انگور کو کرم کہنے سے بھی منع کردیا گیا اور فرمایا گیا کہ کرم تو مؤمن کا قلب یا خود مؤمن تم ایسا اچھا نام ایسی خبیث چیز کو کیوں دیتے ہو۔عربی میں اچھی زمین،انگور،حج،جہاد سب کو کرم کہتے ہیں، یہ حدیث اس کی طرف اشارہ کررہی ہے،رب فرماتاہے:"اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنۡدَ اللّٰہِ اَتْقٰىکُمْ"۔(مرقات)بہرحال یہ ممانعت یا محض تنزیہی ہے یا منسوخ ہے اس حدیث کی اور بہت توجیہیں ہیں جو اشعہ نے بیان کیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4761