Main Icon

باب:ناموں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4763

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُسَمُّوا الْعِنَبَ الْكَرْمَ وَلَا تَقُولُوا: يَا خَيْبَةَ الدَّهْرِ فَإِنَّ اللّٰهَ هُوَ الدَّهْرُ ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لا تسموا العنب الكرم ولا تقولوا: يا خيبة الدهر فإن الله هو الدهر ". رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ انگور کا نام کرم نہ رکھو اور نہ کہو ہائے محرومی زمانہ کی ۱∞؎کیونکہ الله ہی زمانہ ہے ۲؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎اہل عرب ہر مصیبت کو زمانہ کی طرف سے سمجھتے تھے اس لیے مصیبت پڑنے پر زمانہ کی شکایات کرتے بلکہ زمانہ کو گالیاں دیتے تھے انکے محاورہ کے الفاظ میں اسے یہ لفظ بھییا خیبۃ الدھرہائے زمانہ کی محرومی اور زمانہ کا نقصان و خسارہ ہم کو اس سے منع فرمایا گیا۔
۲
؎اس جملہ کی شرحکتاب الایمانمیں گزرگئی اس جملہ کے معنی ہیں کہ الله تعالٰی ہی زمانہ کو پھیرنے والا ہے۔زمانہ کو برا کہنا در پردہ رب تعالٰی کی شان میں گستاخی کرنا ہے،ہمارے ہاں بھی یہ بیماری ہے عوام کاذکر کیا بعض پڑھے لکھے لوگ زمانہ کو برا کہتے ہیں۔چنانچہ مولوی محمود حسن صاحب دیوبندی نے اپنے بزرگ رشید احمد صاحب گنگوہی کا مرثیہ لکھا تو اس میں زمانہ کو بڑی جلی کٹی سنائیں وہ مرثیہ گنگوہی دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ لوگ کیسے ہیں اپنے بزرگوں کو نبیوں سے بڑھا دیتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4763