Main Icon

باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5360

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِنَّمَا النَّاسُ كَالإِبِلِ الْمِئَةِ لَا تَكَادُ تَجِدُ فِيهَا رَاحِلَةً". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

عن ابن عمر قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "إنما الناس كالإبل المئة لا تكاد تجد فيها راحلة". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ لوگ ان سو اونٹوں کی طرح ہیں ۱؎جن میں تم ایک بھی سواری کے قابل نہ پاؤ ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہاںالناسسے مراد آخر زمانہ کے لوگ ہیں،قریب قیامت لوگوں کا یہ حال ہوگا۔زمانہ رسالت میں اگرچہ حضرات صحابہ کے درجات مختلف تھے مگر سب عادل،ثقہ،مؤمن،صالح تھے لہذا اس حدیث سے شیعہ دلیل نہیں پکڑسکتے کہ سارے صحابہ گمراہ فاسق تھے سواء حضرت علی،بلال،سلمان وغیرہم چار پانچ صحابہ کے کہ یہ معنی قرآن کی صریحی آیات کے خلاف ہیں اس لیے یہ حدیثتغیر الناسمیں مذکور ہوئی،اگلی حدیث بھی اس معنی کی تائید کررہی ہے۔حضور نے فرمایااصحابی کا لنجوم،قرآن کریم فرماتاہے:"فَلَاۤ اُقْسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوۡمِ"اس آیت و حدیث نے صحابہ کو تارے فرمایا۔
۲
؎راحلۃبنارحلسے بمعنی کجاوہ جس پر بوجھ رکھا جاوے یا آدمی سوار ہو یعنی جیسے سو اونٹ ہوں جو رنگ روپ جسامت میں یکساں معلوم ہوتے ہوں مگر سواری یا بوجھ لادنے کے قابل ایک بھی نہ ہو،صرف کھانے پینے کے لیے ہی ہوں ایسے ہی لوگ ہوجائیں گے شکل و صورت، بات چیت میں بڑے اچھے ہوں گے مگر معاملہ کے قابل ایک نہ ہوگا جیساکہ آج دیکھا جارہا ہے۔انسان کی آزمائش معاملہ پڑنے پر ہوتی ہے نماز روزہ،حج و زکوۃ آسان ہے معاملہ کی صفائی بڑی مشکل ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5360