Main Icon

باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5369

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "يُوشِكُ الأُمَمُ أَنْ تَدَاعَى عَلَيْكُمْ كَمَا تَدَاعَى الأَكَلَةُ إِلَى قَصْعَتِهَا"، فَقَالَ قَائِلٌ: وَمِنْ قِلَّةٍ نَحْنُ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: "بَلْ أَنْتُم يَوْمئِذٍ كَثِيرٌ، وَلَكِن غُثَاءٌ كَغُثَاءِ السَّيْلِ، وَلَيَنْزِعَنَّ اللَّهُ مِنْ صُدُورِ عَدُوِّكُمُ الْمَهَابَةَ مِنْكُمْ، وَلَيَقْذِفَنَّ فِي قُلُوبِكُمُ الْوَهْنَ"، قَالَ قَائِلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْوَهْنُ؟ قَالَ: "حُبُّ الدُّنْيَا وَكَرَاهِيَةُ الْمَوْتِ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي "دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ".

وعن ثوبان قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "يوشك الأمم أن تداعى عليكم كما تداعى الأكلة إلى قصعتها"، فقال قائل: ومن قلة نحن يومئذ؟ قال: "بل أنتم يومئذ كثير، ولكن غثاء كغثاء السيل، ولينزعن الله من صدور عدوكم المهابة منكم، وليقذفن في قلوبكم الوهن"، قال قائل: يا رسول الله وما الوهن؟ قال: "حب الدنيا وكراهية الموت". رواه أبو داود والبيهقي في "دلائل النبوة".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ثوبان سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے قریب ہے کہ امتیں تم پر ایک دوسرے کو ایسی دعوت دیں جیسے کھانے والے اپنے پیالہ کی طرف ۱؎تو کوئی کہنے والا بولا کیا اس دن ہماری کمی کی وجہ سے ایسا ہوگا ۲؎فرمایا بلکہ تم اس دن بہت ہوگے لیکن تم سیلاب کے میل کی طرح ایک سیل بن جاؤ گے۳؎اور اتمہارے دشمن کے دلوں سے تمہاری ہیبت نکال دے گا اورتمہارے دل میں سستی ضعف ڈال دے گا ۴؎کسی کہنے والے نے عرض کیا یارسول اللہ وہن کیا چیز ہے فرمایا دنیا کی محبت اور موت سے ڈر ۵؎(ابوداؤد،بیہقی، دلائل النبوۃ)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی کفار کی قومیں یہود،نصاریٰ،مشرکین،مجوسی وغیرہ تم کو مٹانے کے لیے متفق ہوجاویں بلکہ ایک دوسرے کو دعوت دیں کہ آؤ مسلمانوں کو مٹاتے انہیں ستاتے ہیں تم بھی ہمارے ساتھ شریک ہوجاؤ یہ حالات اب شروع ہوچکے ہیں۔ دیکھو یہودی اور عیسائی ایک دوسرے کے دشمن ہیں مگر آج مسلمانوں کو مٹانے کے لیے دونوں بلکہ ان کے ساتھ مشرکین بھی ایک ہوگئے ہیں،یہ ہے اس فرمان عالی کا ظہور،حضور کا ایک ایک لفظ حق ہے۔
۲
؎یعنی ہمارے مقابلہ میں جو کفار کے حوصلے اتنے بلند ہوجاویں گے کیا اس کی وجہ یہ ہوگی،اس زمانہ میں ہماری تعداد تھوڑی ہوگئی ہوگی،آج ہماری تعداد زیادہ ہی ہے اس سے کفار پر ہماری دھاک بیٹھی ہے۔
۳
؎یعنی بمقابلہ آج تمہاری تعداد اس دن زیادہ ہوگی مگر تم ایسے ہوگے جیسے سمندرمیں پانی کا میل دکھاوا زیادہ حقیقت کچھ نہیں۔بزدلی نااتفاقی،پریشانی دل،آرام طلبی،عقل کی کمی،موت سے ڈر،دنیا سے محبت تم میں بہت ہو جاوے گی۔ (مرقات) ان وجوہ سے کفار کے دل سے تمہاری ہیبت نکال دی جاوے گی ۔
۴
؎وھنبمعنی سستی،ضعف کمزوری،مشقت یہاں یا بمعنی سستی ہے یا بمعنی ضعف،رب تعالٰی فرماتاہے:"حَمَلَتْہُ اُمُّہٗ وَہۡنًا عَلٰی وَہۡنٍ" اور فرماتاہے:"رَبِّ اِنِّیۡ وَہَنَ الْعَظْمُ مِنِّیۡ"یعنی تم دل کے کمزور و سست ہوجاؤ گے جہاد سے دل چراؤ گے۔
۵
؎یعنی اس سستی وضعف کا سبب دو چیزیں ہیں: ایک دنیا میں رغبت،دوسرے موت کا خوف۔جس قوم میں یہ دو چیزیں جمع ہوجاویں وہ عزت کی زندگی نہیں گزار سکتی۔خیال رہے کہ حب دنیا اور موت سے نفرت لازم و ملزوم چیزیں ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5369