Main Icon

باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5362

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مِرْدَاسٍ الأَسْلَمِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "يَذْهَبُ الصَّالِحُونَ الأَوَّلُ فَالأَوَّلُ، وَتَبْقَى حُفَالَةٌ كَحُفَالَةِ الشَّعِيرِ أَوِ التَّمْرِ لَا يُبَالِيهِمُ اللَّهُ بالةً". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

وعن مرداس الأسلمي قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "يذهب الصالحون الأول فالأول، وتبقى حفالة كحفالة الشعير أو التمر لا يباليهم الله بالة". رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے مرادس اسلمی ۱؎سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے نیک لوگ آگے پیچھے چلے جائیں گے اور بھوسی رہ جاوے گی جیسے جو کی یا چھوہاروں کی بھوسی اللہ تعالٰی ان کی مطلقًا کوئی پرواہ نہ کرے گا ۲؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ صحابی ہیں،بیعت الرضوان میں شریک تھے،آپ سے صرف یہ ہی ایک حدیث مروی ہے قیس ابن جازم کی روایت سے۔
۲
؎حثالہاورحفالہجو کی بھوسی یا خرمہ کا کوڑا جو کسی کام نہ آسکے۔اس سے مراد وہ نفس پرست مسلمان ہیں جن کے صرف نام مسلمانوں کے سے ہوں باقی وہ دین یا قوم یا وطن کے لیے مطلقًا مفید نہ ہوں۔اگر چھلکا مغز کے ساتھ رہے تو اس کی بھی قدر ہوجاتی ہے،مغز سے علیحدہ ہوکر پھینکا ہی جاتا ہے،اگر بروں کے ساتھ اچھے بھی ہوں تو یہ بھی تیر جاتے ہیں،اگر اچھے نکل جاویں تو ڈوب جاتے ہیں۔یہاں یہ ہی فرمایا گیا کہ جب تک ان میں اچھے رہیں گے تب تک رب تعالٰی ان کی پرواہ کرے گا،اچھوں کے اٹھ جانے پر ان بروں کی کوئی قدر نہ ہوگی ہر طرح غضب میں گرفتارہوں گے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5362