Main Icon

باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5363

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِذَا مَشَتْ أُمَّتِي الْمُطَيْطَاءَ،وَخَدَمَتْهُمْ أَبْنَاءُ الْمُلُوكِ؛ أَبْنَاءُ فَارِسَ وَالرُّومِ، سَلَّطَ اللَّهُ شِرَارَهَا عَلَى خِيَارِهَا". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.

عن ابن عمر قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "إذا مشت أمتي المطيطاء،وخدمتهم أبناء الملوك؛ أبناء فارس والروم، سلط الله شرارها على خيارها". رواه الترمذي وقال: هذا حديث غريب.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جب میری امت اکڑ کر چلے ۱؎اور شاہزادے یعنی فارس و روم کے بچے ان کی خدمت کریں۲؎تو اللہ تعالٰی ان کے بہتروں پر بدتروں کو مسلط کردے گا ۳؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎مطیطیاءمیم کے پیش اور پہلی ط کے فتحہ سے اس کا مادہمطیہے بمعنی اکڑ غرور،رب تعالٰی فرماتاہے:"ثُمَّ ذَہَبَ اِلٰۤی اَہۡلِہٖ یَتَمَطّٰی"۔معلوم ہوا کہ متکبرین کی طرح چلنا بھی اللہ کے عذاب کا سبب ہے،مسلمان کی نشست و برخاست چلنے پھرنے میں تواضع اور انکسار چاہیے،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَاقْصِدْ فِیۡ مَشْیِکَ"اور فرماتاہے:"وَ لَا تَمْشِ فِی الۡاَرْضِ مَرَحًا
۲
؎یعنی مسلمان فارس و روم کے ملک فتح کریں وہاں کے شہزادے غلام اور شہزادیاں لونڈیاں بن جاویں تو ان مسلمانوں کا وہ حال ہوگا جو آگے مذکور ہے۔
۳
؎چنانچہ دیکھ لو عہد فاروقی میں روم و فارس فتح ہوئے تو مسلمانوں نے عثمان غنی کو شہید کیا اور کچھ عرصہ بعد یزید،حجاج جیسے ظالم بنی امیہ ان پر مسلط ہوگئے۔یہ خبر حضور کا معجزہ ہے نفس انسانی تکالیف میں ٹھیک رہتا ہے۔اس حدیث پاک میں تین غیبی خبریں ہیں: آئندہ فارس و روم کا فتح ہونا،شہزادوںشہزادیوں کا مسلمانوں کا غلام و لونڈیاں بننا،مسلمانوں پر بدترین لوگوں کا حاکم بن جانا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5363