باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5366
دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالب قَالَ: إِنَّا لَجُلُوسٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- فِي الْمَسْجِدِ فَاطَّلَعَ عَلَيْنَا مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ مَا عَلَيْهِ إِلَّا بُرْدَةٌ لَهُ مَرْقُوعَةٌ بِفَرْوٍ، فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- بَكَى لِلَّذِي كَانَ فِيهِ مِنَ النِّعْمَةِ وَالَّذِي هُوَ فِيهِ الْيَوْمَ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "كَيْفَ بِكُمْ إِذَا غَدَا أَحَدُكُمُ فِي حُلَّةٍ وَرَاحَ فِي حُلَّةٍ، وَوُضِعَتْ بَيْنَ يَدَيْهِ صَحْفَةٌ وَرُفِعَتْ أُخْرَى، وَسَتَرْتُمْ بُيُوتَكُمْ كَمَا تُسْتَرُ الْكَعْبَة؟ " فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ نَحْنُ يَوْمَئِذٍ خَيْرٌ مِنَّا الْيَوْمَ، نَتَفَرَّغُ لِلْعِبَادَةِ وَنُكْفَى الْمُؤْنَةَ،قَالَ: "لَا، أَنْتُمُ الْيَوْمَ خَيْرٌ مِنْكُمْ يَوْمَئِذٍ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
وعن محمد بن كعب القرظي قال: حدثني من سمع علي بن أبي طالب قال: إنا لجلوس مع رسول الله -صلى الله عليه وسلم- في المسجد فاطلع علينا مصعب بن عمير ما عليه إلا بردة له مرقوعة بفرو، فلما رآه رسول الله -صلى الله عليه وسلم- بكى للذي كان فيه من النعمة والذي هو فيه اليوم، ثم قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "كيف بكم إذا غدا أحدكم في حلة وراح في حلة، ووضعت بين يديه صحفة ورفعت أخرى، وسترتم بيوتكم كما تستر الكعبة؟ " فقالوا: يا رسول الله نحن يومئذ خير منا اليوم، نتفرغ للعبادة ونكفى المؤنة،قال: "لا، أنتم اليوم خير منكم يومئذ". رواه الترمذي.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت محمد ابن کعب قرظی سے ۱؎فرماتے ہیں کہ مجھے اس شخص نے خبر دی جس نے حضرت علی ابن ابی طالب کو فرماتے سنا ۲؎کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ مسجد میں بیٹھے تھے۳؎کہ اچانک ہم پر مصعب ابن عمیر نمودار ہوئے۴؎جن پر صرف ایک چادرتھی چمڑے سے پیوند کی ہوئی تو جب انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے دیکھا تو حضور رو پڑے اسی نعمت کے خیال سے جس میں وہ پہلے تھے اور اسی حالت سے جس میں وہ آج ہیں۵؎پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اس وقت تم کیسے ہوگے جب تم میں سے کوئی ایک جوڑے میں صبح ملے گا اور دوسرے جوڑے میں شام ۶؎اور اس کے سامنے ایک پیالہ رکھا جاوے گا اور دوسرا اٹھایا جاوے گا ۷؎اور تم اپنے گھروں کو ایسے کپڑے پہناؤ گے جیسے کعبہ پہنایا جاتا ہے ۸؎تو صحابہ نے عرض کیا یارسول اللہ ہم اس دن آج کے دن سے اچھے ہوں گے کہ عبادت سے فارغ ہوں گے اور کام کاج سے بچالیے جاویں گے،فرمایا نہیں تم آج اچھے اس دن کے مقابلہ میں ۹؎(ترمذی)
شرح حدیث
۱∞؎آپ تابعی ہیں،بنی قریظہ سے ہیں جو یہود مدینہ تھے،آپ کے والد کعب قرظی اس وقت بچے تھے جب بنی قریظہ کو قتل کیا گیا اس لیے وہ قتل سے بچ گئے تھے۔(مرقات)
۲؎حضرت علی سے یہ سننے والے اگر صحابی ہیں تو حدیث صحیح ہےکہ صحابی سارے کے سارے عادل ثقہ ہیں،اگر ان کا نام معلوم نہ ہو تو حرج نہیں اور اگر یہ سننے والے صحابی نہیں بلکہ تابعی ہیں تو تابعی کی جہالت قابل مغفرت ہے۔ (مرقات)مگر اس صورت میں حدیث مجہول ہوگی۔
۳؎مسجد نبوی میں یا مسجد قبا میں پہلا احتمال قوی ہے۔
۴؎آپ قریشی مکی اور عبدری ہیں،آپ اسلام سے پہلے بڑے دولت مند نہایت خوش خوراک اور خوش لباس تھے،بیعت عقبہ کے بعد حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے آپ کو ہی مدینہ منورہ کا مبلغ قرار دیا،آپ نے وہاں اسلام کی بہت اشاعت فرمائی اور ہفتہ میں ایک دن اجتماع کا رکھا اتفاقًا وہ دن جمعہ مقرر ہوا گویا جمعہ کی بنیاد آپ کے ہاتھوں قدرتی طور پر ہوئی۔بعد ہجرت آپ صفہ والوں میں مقرر ہوئے اور آپ کی غربت و افلاس یا ترک دنیا کا وہ حال ہوا جو یہاں مذکور ہے۔خیال رہے کہ مدینہ منورہ میں پہلے حضرت مصعب ابن عمیر اور عبداللہ ابن ام مکتوم پہنچے پھر حضرت بلال،سعد ابن ابی وقاص اور عمار ابن یاسر پہنچے،پھر حضرت عمر بیس صحابہ کرام کے ساتھ پہنچے۔(بخاری شریف جلد اول،ص ۵۵۸،باب مقدم النہارۃ المدینہ)حضرت مصعب جنگ احد میں شہید ہوئے،آپ کو کفن تو کیا پوری ایک چادر بھی نہ ملی،پاؤں شریف کو گھاس سے چھپایا گیا،آپ کے بارے میں یہ آیت آئی"رِجَالٌ صَدَقُوۡا مَا عٰہَدُوا اللہَ"چالیس سال کی عمر میں شہید ہوئے۔
۵؎جب حضور انور نے آپ کی کپڑے کی چادر میں چمڑے کا پیوند دیکھا یعنی اتنا کپڑا میسر نہ تھا کہ اس سے پھٹی چادر میں پیوند لگالیں اور حضور نے ان کا گزشتہ عیش کا زمانہ یاد فرمایا تو رو پڑے یا ان پر رحم فرماتے ہوئے یا ان کے ترک دنیا اور آخرت کے درجات پر خوشی سے روئے پہلا احتمال زیادہ قوی ہے۔خیال رہے کہ حضور انور کی ترک دنیا پر حضرت عمر روئے تو حضور انور نے انہیں رونے سے منع فرمادیا وہ حضور انور کا صبر ہے اور یہاں حضرت مصعب پر خود روئے یہ حضور کی رحمت ہے،حضور اپنی امت کی تکالیف پر صابر ہیں امت کی تکلیفوں کو برداشت نہیں فرماتے تھے روتے تھے۔
۶؎یہ فرمان عالی عام صحابہ سے ہے ،حضرت مصعب اس میں داخل نہیں کیونکہ آپ نے وہ وسعت وفراخی کا زمانہ نہیں پایا یہ فراخی فتوحات فاروقی اور سخاوت عثمانی سے ہوئی،آپ تو احد میں ہی شہید ہوگئے تھے ۔
۷؎یعنی تمہارے گھروں میں بیک وقت چند کھانے پکا کریں گے جو تمہارے خدام تمہارے پاس آگے پیچھے لاکر پیش کریں گے۔عرب میں چند کھانے یکدم سامنے نہیں رکھے جاتے بلکہ آگے پیچھے لائے جاتے ہیں بعض امیر گھرانوں میں یہاں بھی یہ عقیدہ ہے۔معلوم ہوا کہ بیک وقت چند کھانے صحابہ کرام کے زمانہ میں جاری ہوگیا تھا،یہ بدعت حسنہ ہے۔(دیکھو شامی)
۸؎یعنی آج تو صرف کعبہ معظمہ کی دیواروں پر غلاف چڑھایا جاتا ہے مگر اس زمانہ میں تمہاری مالداری کا یہ حال ہوگا کہ تم اپنی چھتوں اپنی دیواروں کو اعلٰی درجہ کے غلافوں سے چھپاؤ گے۔معلوم ہوا کہ یہ عمل بھی ناجائز نہیں ہے نہ اسراف ہے بلکہ جائز ہے اگرچہ بہتر نہ ہو کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کی خبر دی مگر اسے ناجائز نہ کہا لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں جس میں اس عمل پر ناپسندیدگی فرمائی گئی ہے کہ وہاں بہتر نہ ہونے کی بنا پر ناپسندیدگی ہے۔
۹؎اس لیے آج بہتر ہو کہ آج تم آپس کے بہت سے فتنوں سے بچے ہوئے ہو،اس زمانہ میں فتنے زیادہ ہوں گے یا اس لیے کہ آج تم فقیر صابر ہو اس دن غنی شاکرہوؤ گے۔اور فقیر صابر افضل ہے غنی شاکر سے،دیکھا گیا ہے کہ بمقابلہ امیروں کے فقیر مسلمان عبادات زیادہ کرتے ہیں۔مرقات نے یہاں فرمایا کہ کافر فقیر کا عذاب بمقابلہ کافر غنی کے ہلکا ہوگا،اسی طرح مؤمن فقیر کا ثواب عمومًا مؤمن غنی سے زیادہ ہوگا۔(مرقات)
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5366