Main Icon

باب :آدابِ تلاوت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2187

قرآن کے فضائل کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِيْ مُوْسَى الأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "تَعَاهَدُوا الْقُرْآنَ،فَوَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِيَدِهٖ لَهْوَ أَشَدُّ تَفَصِّيًا مِنَ الْإِبِلِ فِيْ عُقُلِهَا".
مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

عن أبي موسى الأشعري قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "تعاهدوا القرآن،فوالذي نفسي بيده لهو أشد تفصيا من الإبل في عقلها".
متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو موسیٰ اشعری سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کی نگرانی رکھو ۱؎اس کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے کہ قرآن ر سی میں بندھے اونٹ سے زیادہ بھاگ جانے والا ہے ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎تعاھدعہد سے بنا،بمعنی حفاظت و نگرانی ومضبوط وعدے کو بھی اسی لیے عہد کہتے ہیں کہ اس کی حفاظت کی جاتی ہے،قرآن شریف کی نگرانی کرنے سے مراد ہے اس کا دورکرتے رہنا،اس کی تلاوت کی عادت ڈالنا،خصوصًا حافظ صاحبان کے لیے ظاہر یہ ہے کہ قرآن سے مراد الفاظ قرآن،معانی قرآن علوم قرآن اور مسائل قرآن سب ہی ہے یعنی حفاظ اپنے حفظ کی،قاری صاحبان تجوید کی،علماءعلوم قرآنیہ کی تجدید و تکرار کرتے رہیں،ورنہ بھول جانے کا اندیشہ ہے۔
۲
؎عقلعین وقاف کے پیش سے ہے عقال کی جمع،بمعنی رسی جس سے جانور باندھا جاوے،یہاںفیبمعنیمنہے یعنی جیسے اونٹ کو باندھنے کے باوجود اس سے غافل نہیں ہوتے اسی لیے قرآن شریف حفظ کرنے کے باوجود اپنے یاد پر اعتماد نہ کرو،یہ بہت جلد بھول جاتاہے کیوں نہ ہو کہ کلام الٰہی قدیم اور ہم حادث، ہم کو اس سے نسبت ہی کیا ہے یہ رب تعالٰی کی مہربانی ہے کہ ہم اسے سیکھ لیتے ہیں اور یہ ہمارے ذہنوں میں سما جاتا ہے تو ہماری ذرا سی غفلت اور لاپرواہی سے یہ نعمت ہم سے جاتی رہے گی پان والے ہمیشہ پان کے ڈھیر کو لوٹتے پلٹے رہتے ہیں،تو قرآن والے ہمیشہ اس کی لوٹ و پلٹ رکھیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2187