- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 3
- قرآن کے فضائل کا بیان
- حدیث نمبر 2198
باب :آدابِ تلاوت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2198
قرآن کے فضائل کا بیان - جلد 3
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
عَنْ أَبِيْ سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: جَلَسْتُ فِيْ عِصَابَةٍ مِنْ ضُعَفَاءِ الْمُهَاجِرِيْنَ، وَإِنَّ بَعْضَهُمْ لَيَسْتَتِرُ بِبَعْضٍ مِنَ الْعُرْيِ، وَقَارِئٌ يَقْرَأُ عَلَيْنَا، إِذْ جَاءَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فَقَامَ عَلَيْنَا، فَلَمَّا قَامَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- سَكَتَ الْقَارِئُ، فَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: "مَا كُنْتُمْ تَصْنَعُوْنَ؟ " قُلْنَا: كُنَّا نَسْتَمِعُ إِلٰى كِتَابِ اللّٰهِ، فَقَالَ: "الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ جَعَلَ مِنْ أُمَّتِيْ مَنْ أُمِرْتُ أَنْ أَصْبِرَ نَفْسِيْ مَعَهُمْ". قَالَ: فَجَلَسَ وَسَطَنَا لِيَعْدِلَ بِنَفْسِهِ فِيْنَا، ثُمَّ قَالَ بِيَدِهٖ هَكَذَا، فَتَحَلَّقُوْا وَبَرَزَتْ وُجُوْهُهُمْ لَهٗ، فَقَالَ: "أَبْشِرُوْا يَا مَعْشَرَ صَعَالِيْكِ الْمُهَاجِرِيْنَ بِالنُّوْرِ التَّامِّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، تَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ قَبْلَ أَغْنِيَاءِ النَّاسِ بِنِصْفِ يَوْمٍ، وَذَاكَ خَمْسُ مِائَةِ سَنَةٍ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.
عن أبي سعيد الخدري قال: جلست في عصابة من ضعفاء المهاجرين، وإن بعضهم ليستتر ببعض من العري، وقارئ يقرأ علينا، إذ جاء رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فقام علينا، فلما قام رسول الله -صلى الله عليه وسلم- سكت القارئ، فسلم، ثم قال: "ما كنتم تصنعون؟ " قلنا: كنا نستمع إلى كتاب الله، فقال: "الحمد لله الذي جعل من أمتي من أمرت أن أصبر نفسي معهم". قال: فجلس وسطنا ليعدل بنفسه فينا، ثم قال بيده هكذا، فتحلقوا وبرزت وجوههم له، فقال: "أبشروا يا معشر صعاليك المهاجرين بالنور التام يوم القيامة، تدخلون الجنة قبل أغنياء الناس بنصف يوم، وذاك خمس مائة سنة". رواه أبو داود.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں کہ میں کمزور مہاجروں کی جماعت میں بیٹھا تھا ۱؎وہ حضرات برہنگی کے باعث بعض بعض کی آڑ لیتے تھے ۲؎ایک قاری ہم پر تلاوت کررہے تھے۳؎کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ہم کھڑے ہوگئے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہوئے تو قاری خاموش ہوگئے حضور نے سلام کیا ۴؎پھر حضور نے فرمایا تم کیا کررہے تھے ۵؎ہم نے عرض کیا ہم اللہ کی کتاب بغور سن رہے تھے ۶؎فرمایا شکر ہے اس خدا کا جس نے میری امت میں وہ لوگ پیدا کئے جن کے ساتھ رہنے کا مجھے حکم دیا گیا پھر ہمارے درمیان ۷؎تشریف فرما ہوگئے تاکہ اپنے کو ہمارے برابر رکھیں ۸؎پھر ہاتھ سے اشارہ فرمایا کہ یوں ہوجاؤ لوگ حلقہ بن گئے کہ سب کے چہرے حضور کے سامنے ہوگئے ۹؎فرمایا اے فقراء مہاجرین کی جماعت تمہیں قیامت کے دن کے مکمل نور کی بشارت ہو ۱۰؎تم جنت میں مالداروں سے آدھا دن پہلے جاؤ گے یہ آدھا دن پانچ سو سال ہیں ۱۱؎(ابو داؤد)
شرح حدیث
۱؎یعنی صفہ والے صحابہ کے ساتھ جو تقریبًا ستر تھے جنہوں نے اپنے کو علم دین سیکھنے کے لیے وقف کردیا تھا۔
۲؎یعنی ان کی غریبی و افلاس کا یہ حال تھا کہ بعض کے جسم پر بقدر تن پوشی بھی پورا کپڑا نہ تھا۔تو وہ دوسرے کی آڑ میں بیٹھا تھا کہ کچھ ستر پوشی ہو جائےالله اکبر۔شعر
یہ وہ تھےجن سے حق کا بول بالا ہونے والا تھا
یہ وہ تھے جن سے دنیا میں اجالا ہونے والا تھا
۳؎یعنی اس جماعت میں ایک قاری تلاوت قرآن کررہے تھے باقی تمام سن رہے تھے سب یک دم نہ پڑھتے تھے کہ یہ ممنوع ہے۔
۴؎یعنی جب قاری خاموش ہوگیا،تب آپ نے سلام کیا،اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ کسی دینی بزرگ کی تشریف آوری پر تلاوت بند کردینا،ان کے احترام کے لیے خاموش ہوجانا بالکل جائز بلکہ سنت صحابہ ہے،بلکہ قرآن مجید بند کرکے اس کی تعظیم کو کھڑا ہوجانا بھی درست ہے۔صحابہ کرام نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ادب عین نماز میں کیا ہے کہ حضرت صدیق اکبر حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری پر مصلے امامت سے پیچھے ہٹ کر مقتدی بن گئے۔دوسرے یہ کہ آنے والا بحالت تلاوت سلام یا کلام نہ کرے جب تلاوت بند ہوجائے تب سلام کرے۔تیسرے یہ کہ اگر آتے وقت سلام کا موقع نہ ہو تو بعد میں بھی آمد کا سلام کرنا جائز ہے۔
۵؎حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ سوال اگلی خوشخبری کی تمہید ہے،ورنہ سرکار نے ان کی تلاوت سن لی تھی اور ان کی حالت دیکھ لی تھی،جیسے رب تعالٰی نے موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام سے پوچھا کہ تمہارے ہاتھ میں کیا ہے۔
۶؎برکت اور لذت ایمانی کے لیے تلاوت قرآن بہترین مشغلہ ہے، اللہ نصیب کرے،اس سے انسان دنیا کے سارے غم بھول جاتا ہے یہ ہی تاثیر حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث پاک پڑھنے لکھنے اس کی شرح کرنے میں ہے فقیر کا تجربہ ہے۔
۷؎یعنی میری امت و صحابہ میں ایسے فقراء و مساکین پیدا کئے جو رب تعالٰی پر متوکل قرآن کے حامل ہیں اور مجھے حکم دیا کہ محبوب تم ان ہی غریبوں میں رہو کہ"وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِیۡنَ یَدْعُوۡنَ رَبَّہُمۡ بِالْغَدٰوۃِ وَالْعَشِیِّ"الایہ۔خیال رہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم اب بھی ان ہی مساکین کے سینوں میں رہتے ہیں اگر حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو ڈھونڈنا ہے تو ان سینوںمیں تلاش کرو ان کے سینے رحمت کے گنجینے ہیں مدینے ہیں۔
۸؎یعنی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم اس مجلس میں ہم میں اس طرح بیٹھ گئے کہ ہم سب قرب میں یکساں ہوگئے نہ اونچی نشست پر جلوہ فرما ہوئے نہ ہم سے علیحدہ ہم فقراء کے زمرے میں ہم مساکین کے حلقہ میں ایسے بیٹھ گئے جیسے تاروں کے درمیان چاند قربان اس حلقہ پر یہ حلقہ ملائکہ سے افضل تھا۔
۹؎تاکہ سب پر حضور کی نظر رحمت یکساں پڑے یہ رب تعالٰی کے اس فرمان پر عمل تھا"وَلَا تَعْدُ عَیۡنَاكَ عَنْہُمْ"۔شعر
جوہم داں ہوتے خاک گلشن،لپٹ کے قدموں سے لیتے اترن
مگر کریں کیا نصیب میں تو یہ نامرادی کے دن لکھے تھے
عام مجلسوں میں حلقہ بنانا افضل ہے،نماز و جہاد میں صف بنانا بہتر۔
۱۰؎معلوم ہوا کہ قیامت کے دن فقراء مسلمین کا نور مسلمان مالداروں سے زیادہ ہوگا،کیونکہ صبر کا نور شکر کے نور سے قوی تر ہے،جیسے چاند کے نور سے سورج کا نور قوی ہے۔
۱۱؎یعنی قیامت کا دن ایک ہزار سال کا اس کا آدھا پانچ سو سال ہوگا مالداروں کو حساب دینے میں دیر لگے گی،مگر ان فقراء سے وہ لوگ مراد ہیں جو صابر متقی ہوں،اسی وجہ سے ارشاد ہے کہ فقیر صابر،غنی شاکر سے افضل ہے،یہ گفتگو ایک درجہ کے فقراء و اغنیاء میں ہے،ورنہ غیر صحابی فقیر صحابی کے قدم کی خاک کو نہیں پہنچ سکتا،یوں ہی خلفائے راشدین تک ان کے ماتحت حضرات نہیں پہنچ سکتے لہذا عثمان و زبیر ابن عوام وغیرہم بہت اونچی شان والے ہیں کہ یہ حضرات بے حساب جنتی ہیں نہ ان کا حساب ہوگا نہ انہیں دیر لگے گی۔خیال رہے کہ قیامت کا دن ہے تو ایک ہزار سال کا،مگر کفار کو پچاس ہزار سال کا محسوس ہوگا اور بعض خاص مؤمنین کو چار رکعت نماز کی بقدر۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2198