Main Icon

باب :آدابِ تلاوت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2204

قرآن کے فضائل کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ أَبِيْ مُلَيْكَةَ عَنْ يَعْلَى بْنِ مَمْلَكٍ أَنَّهُ سَأَلَ أُمَّ سَلَمَةَ عَنْ قِرَاءَةِ النَّبِيِّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا هِيَ تَنْعَتُ قِرَاءَةً مُفَسَّرَةً حَرْفًا حَرْفًا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ.

وعن الليث بن سعد عن ابن أبي مليكة عن يعلى بن مملك أنه سأل أم سلمة عن قراءة النبي -صلى الله عليه وسلم، فإذا هي تنعت قراءة مفسرة حرفا حرفا. رواه الترمذي وأبو داود والنسائي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت لیث ابن سعد سے وہ ابو ملیکہ سے وہ یعلٰی ابن مملک سے راوی ۱؎کہ انہوں نے حضرت ام سلمہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت قرآن کی متعلق پوچھا تو آپ حضور کی قرأۃ اس طرح بتانے لگیں کہ ایک ایک حرف الگ الگ ۲؎(ترمذی،ابوداؤد،نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎لیث ابن سعد مشہور تابعی فقیہ ہیں،مصر کے امام ہیں اور ابن ابی ملیکہ تابعی ہیں مکہ معظمہ کے قاضی تھے حضرت ابن زبیر کی طرف سے،آپ نے تیس صحابہ سے ملاقات کی ہے،یعلی ابن مملک بھی تابعین میں سے ہیں۔
۲
؎یعنی حضرت ام سلمہ نے خود قرأت کرکے سنائی تو اس قرأت شریف میں دو خوبیاں تھیں ایک تو نہایت ترتیل کے ساتھ ٹھہر ٹھہر کر تھی،دوسرے ہر حرف اپنے مخرج سے صحیح ادا ہوتا تھا۔ معلوم ہوا کہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا بڑی قاریہ تھیں،ورنہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی ق رأۃ کی نقل نہ کرسکتیں۔ حضرت عبد اللہ ابن عباس فرماتے ہیں کہ مجھے ترتیل سے ایک سورۃ تلاوت کرنا بغیر ترتیل کے سارا قرآن پڑھنے سے زیادہ پسند ہے،زیادہ حسن اچھا ہے،ایک موتی،ہزار ہا روپیہ سے بہتر ہوتاہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2204