Main Icon

باب :آدابِ تلاوت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2188

قرآن کے فضائل کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "بِئْسَ مَا لِأَحَدِهِمْ أَنْ يَقُوْلَ: نَسِيْتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ، بَلْ نُسِّيَ، وَاسْتَذْكِرُوا الْقُرْآنَ؛ فَإِنَّهٗ أَشَدُّ تَفَصِّيًا مِنْ صُدُوْرِ الرِّجَالِ مِنَ النَّعَمِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.وَزَادَ مُسْلِمٌ: "بِعُقُلِهَا".

وعن ابن مسعود قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "بئس ما لأحدهم أن يقول: نسيت آية كيت وكيت، بل نسي، واستذكروا القرآن؛ فإنه أشد تفصيا من صدور الرجال من النعم". متفق عليه.وزاد مسلم: "بعقلها".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کا یہ کہنا برا ہے کہ میں فلاں آیت بھول گیا بلکہ وہ بھلادیا گیا ۱؎اور قرآن یادکرتے رہو کیونکہ قرآن لوگوں کے سینوں سے وحشی جانور سے بھی زیادہ بھاگ جانے والا ہے ۲؎(مسلم،بخاری)اورمسلم نے یہ زیادہ کیا کہ اپنی رسی سے۔

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اگر کسی شخص کو قرآن شریف یا کوئی یاد کی ہوئی سورۃ یا آیت یاد نہ رہے،تو یہ نہ کہے کہ میں بھول گیا کیونکہ اس میں اپنے گناہ کا اعلان ہے اور قرآن شریف کی بے ادبی،اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ میں نے قرآن شریف سے لاپرواہی برتی کہ اسے چھوڑ دیا،اسی لیے بھول گیا،یہ عیب کفار کا ہے"اَتَتْكَ اٰیٰتُنَا فَنَسِیۡتَہَا وَکَذٰلِكَ الْیَوْمَ تُنۡسٰی"بلکہ یوں کہے کہ مجھ رب تعالٰی کی طرف سے بھلا دیا گیا،اس کلام میں اظہار حسرت ہے یعنی ہائے افسوس میں اس نعمت سے محروم کردیا گیا۔رب تعالٰی فرماتا ہے:"مَا نَنۡسَخْ مِنْ اٰیَۃٍ اَوْ نُنۡسِہَا نَاۡتِ بِخَیۡرٍ مِّنْہَاۤ"۔بجائے اعلان گناہ کے اظہار حسرت کرے کہ اعلان گناہ بھی گناہ ہے اور اظہار حسرت ثواب۔خیال رہے کہ یہ حکم استحبابی ہے لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں جس میں ارشا دہوا"رجل اُوتی ایۃً فَنَسِیَہَا"یا حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو ایک آیت کی تلاوت کرتے سنا تو فرمایا"لَقَدْ اَذْکَرَنِیْ اٰیَۃً کُنْتُ اسْقَطْتُھَا"۔اس جملے کی اور کئی شرحیں کی گئی ہیں مگر یہ شرح بہترین ہے۔
۲
؎یعنی جیسے شکاری جانور کا وطن جنگل ہے وہ تمہاری قید میں جب تک ہی رہے گا جب تک کہ تم اس کی نگرانی رکھو،یوں ہی قرآن کریم کا وطن عالم بالا ہے وہ تمہارے ذہنوں میں جب تک ہی محفوظ رہے گا جب تک کہ تم اس کی نگہبانی کرتے رہو ورنہ یہ چڑیا اس پنجرے سے اڑ جائے گی۔یہ تجربہ بھی ہے کہ بڑے سے بڑا حافظ یا عالم اگر کچھ دن یہ مشغلہ نہ رکھے تو بھول جاتا ہے اسی لیے علامہ شامی نے فرمایا کہ قاضی کو کچھ روز بعد کتب بینی کے لیے چھٹی دی جائے تاکہ علم قرآن شریف بھول نہ جائے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2188