Main Icon

باب :آدابِ تلاوت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2203

قرآن کے فضائل کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ صُهَيْبٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَا آمَنَ بِالْقُرْآنِ مَنِ اسْتَحَلَّ مَحَارِمَهٗ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ لَيْسَ إِسْنَادُهٗ بِالْقَوِيِّ.

وعن صهيب قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "ما آمن بالقرآن من استحل محارمه". رواه الترمذي وقال: هذا حديث ليس إسناده بالقوي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت صہیب سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے وہ شخص قرآن پر ایمان ہی نہ لایا جو اس کے محرمات کو حلال جانے ۱؎(ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا اس حدیث کی اسناد قوی نہیں ۲؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی تلاوت قرآن جب مفید ہے جب کہ اس کے احکام پر ایمان ہو،ایمان کے بغیر نہ تلاوت مفید ہے نہ قرآن ساتھ رکھنا اگرچہ سارے ہی محرمات کو حرام ماننا ضروری ہے،مگر چونکہ قرآن کریم بہت عظمت والا ہے،اس لیے خصوصیت سے اسی کا ہی ذکر فرمایا حلال و حرام پر ایمان نہ لانے والا کافر ہے پھر تلاوت کا ثواب کیسے پائے،غذا،دوا،زندہ کو مفید ہے نہ کہ مردے کو۔
۲
؎اگرچہ حدیث بعض راویوں کی وجہ سے قوی نہ ہو،مگر قرآن مجید اس کی تائید فرمارہا ہے۔فرمایاہے:"اَلَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ هُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2203