Main Icon

باب :آدابِ تلاوت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2189

قرآن کے فضائل کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- قَالَ: "إِنَّمَا مَثَلُ صَاحِبِ الْقُرْآنِ كَمَثَلِ صَاحِبِ الإِبِلِ الْمُعَقَّلَةِ، إِنْ عَاهَدَ عَلَيْهَا أَمْسَكَهَا، وَإِنْ أَطْلَقَهَا ذَهَبَتْ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن ابن عمر أن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: "إنما مثل صاحب القرآن كمثل صاحب الإبل المعقلة، إن عاهد عليها أمسكها، وإن أطلقها ذهبت". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قرآن والے کی مثال بندھے اونٹ والے کی سی ہے اگر اس کی نگہبانی کرے گا تو اسے روک لے گا اور اگر چھوڑ دے گا تو بھاگ جائے گا ۱؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اونٹ تو مضبوط رسی سے کھونٹے پر رہتا ہے اور قرآن شریف ہمیشہ دور کرنے اور تکرار کرتے رہنے سے ذہن میں ٹھہرتا ہے، پھر جیسے اونٹ اگر ٹھہر جائے تو بڑے فائدے پہنچاتا ہے،سواری،باربرداری، گوشت، دودھ،نسل،اون وغیرہ سب ہی دیتا ہے ایسے ہی قرآن اگر ذہن میں ٹھہر جائے تو ایمان،عرفان رضائے رحمان وغیرہ سب کچھ اسی سے میسر ہوتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2189