Main Icon

باب :آدابِ تلاوت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2205

قرآن کے فضائل کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ جُرَيْجِ عَنِ ابْنِ أَبِيْ مُلَيْكَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يُقَطِّعُ قِرَاءَتَهٗ، يَقُولُ: الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ ثُمَّ يَقِفُ، ثُمَّ يَقُولُ: الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ثُمَّ يَقِفُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: لَيْسَ إِسْنَادُهٗ بِمُتَّصِلٍ، لأَنَّ اللَّيْثَ رَوٰى هٰذَا الْحَدِيْثَ عَنِ ابْنِ أَبِيْ مُلَيْكَةَ عَنْ يَعْلَى بْنِ مَمْلَكٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، وَحَدِيْثُ اللَّيْثِ أَصَحُّ.

وعن ابن جريج عن ابن أبي مليكة عن أم سلمة قالت: كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقطع قراءته، يقول: الحمد لله رب العالمين ثم يقف، ثم يقول: الرحمن الرحيم ثم يقف. رواه الترمذي وقال: ليس إسناده بمتصل، لأن الليث روى هذا الحديث عن ابن أبي مليكة عن يعلى بن مملك عن أم سلمة، وحديث الليث أصح.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن جریج سے وہ ابن ابو ملیکہ سے وہ حضرت ام سلمہ سے راوی فرماتی ہیں کہ رسولصلی اللہ علیہ وسلم ٹھہر ٹھہر کر تلاوت کرتے تھے ۱؎اس طرح کہ پڑھتےالحمد ﷲ رب العلمینپھرٹھہر جاتے پھر پڑھتےالرحمن الرحیمپھر ٹھہر جاتے ۲؎(ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا اس حدیث کی اسناد مسلسل نہیں ۳؎کیونکہ یہ حدیث لیث نے ابن ابی ملیکہ سے انہوں نے یعلی ابن مملک سے انہوں نے ام سلمہ سے روایت کی لیث کی حدیث زیادہ صحیح ہے۴؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی ہر آیت پرٹھہرکر سانس توڑ دیتے تھے،پھر دوسری آیت تلاوت فرماتے تھے،سکتہ اور وقف میں یہ ہے فرق ہے کہ وقف میں سانس توڑ دی جاتی ہے پھرٹھہرا جاتا ہے مگر سکتہ میں ٹھہرتے تو ہیں سانس نہیں توڑتے۔
۲
؎قراء کہتے ہیں کہ وقف تین قسم کا ہے:وقف حسن،وقف کافی،وقف تامالرحمن الرحیمپر وقف کافی ہے،وقف حسن نہیں۔ بہتر یہ ہے کہملك یوم الدینپر وقف کرے اسی طرحرب العلمینپر وقف تام تو ہے حسن نہیں۔وقف حسن یہ ہے کہالحمدسے شروع کرکےیوم الدینپر ٹھہرے،ہمارے ہاں لوگرب العلمینپر وقف کو سخت برا جانتے ہیں یہ بھی درست نہیں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے ہاں یہ کہو کہ بہتر نہیں۔
۳
؎کیونکہ ابن ابی ملیکہ نے حضرت ام سلمہ سے ملاقات نہیں کی،لہذا درمیان میں کوئی راوی چھوٹ گئے حدیث منقطع ہے۔
۴
؎خلاصہ یہ ہے کہ ابن ابی ملیکہ سے لیث ابن سعد نے بھی روایت کی ہے اور جریج نے بھی مگر لیث ابن سعد کی روایت صحیح تر ہے کہ اس میں کوئی راوی چھوٹا نہیں،ام سلمہ سے پہلے یعلی ابن مملک کا ذکر ہے اور جریج کی روایت میں راوی چھوٹ گیا ہے یہ مقطع ہے،لیث ابن سعد بہت ثقہ تھے،انہوں نے ابن ابی ملیکہ عطاء زہری سے روایات لیں۔اور ان سے بہت محدثین نے،انہیں بیس ہزار دینار کی سالانہ آمدنی تھی،مگر ان پرکبھی زکوۃ واجب نہ ہوئی،نیز اس حدیث کا متن بلاغت و لہجہ کے بھی خلاف ہے کہالرحمن الرحیمپر وقف بہتر نہیں۔(مرقات وغیرہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2205