Main Icon

باب :آدابِ تلاوت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2199

قرآن کے فضائل کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "زَيِّنُوا الْقُرْآنَ بِأَصْوَاتِكُمْ"،رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ.

وعن البراء بن عازب قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "زينوا القرآن بأصواتكم"،رواه أحمد وأبو داود وابن ماجه والدارمي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت براء ابن عازب سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کو اپنی آوازوں سے زینت دو ۱؎(احمد،ابن ماجہ،دارمی)۲؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی خوش الحانی اور بہترین لہجے غمگین آواز سے تلاوت کرو اور ہر حرف کو اس کے مخرج سے صحیح اداکرو مگر گا کر تلاوت کرنا جس سے مد شد میں فرق آجائے حرام ہے۔
۲
؎اسے نسائی،ابن حبان حاکم نے بھی روایت کیا،ان میں یہ بھی ہے کہ اچھی آواز قرآن کا زیور ہے۔
حکایت:ایک بار حضرت عبد اللہ ابن مسعود کسی مجلس پر گزرے جہاں ایک گوَیّا بہت اچھی آواز سے گا رہا تھا آپ نے فرمایا کاش یہ آواز قرآن شریف پر استعمال ہوتی یہ خبر گوَیّے کو پہنچی اس نے سچی توبہ کی اور حضرت ابن مسعود کے ساتھ رہنے لگا حتی کہ قرآن کریم کا عالم و قاری ہوگیا۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2199