Main Icon

باب :آدابِ تلاوت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2202

قرآن کے فضائل کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "الْجَاهِرُ بِالْقُرْآنِ كَالْجَاهِرِ بِالصَّدَقَةِ، وَالْمُسِرُّ بِالْقُرْآنِ كَالْمُسِرِّ بِالصَّدَقَةِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ غَرِيْبٌ.

وعن عقبة بن عامر قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "الجاهر بالقرآن كالجاهر بالصدقة، والمسر بالقرآن كالمسر بالصدقة". رواه الترمذي وأبو داود والنسائي، وقال الترمذي: هذا حديث حسن غريب.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عقبہ ابن عامر سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے علانیہ قرآن پڑھنے والا علانیہ صدقہ دینے والے کی طرح ہے اور آہستہ قرآن پڑھنے والا خفیہ صدقہ دینے والے کی طرح ہے ۱؎(ترمذی،ابوداؤد، نسائی) ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن بھی ہے غریب بھی۔

شرح حدیث

۱∞؎یعنی دونوں طرح تلاوت جائز اور باعث ثواب ہے،جیسے دونوں طرح کا صدقہ خفیہ و علانیہ باعث ثواب ہے۔ رب تعالٰی فرماتا ہے: "اِنْ تُبْدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمَّا هِیَ"مگر بعض حالات میں بلند تلاوت افضل ہے کہ اس سے دل بیدار ہوتا ہے دوسروں کو تلاوت کا شوق پیدا ہوتا ہے،نیند بھاگتی ہے شیطان دفع ہوتا ہے رحمان راضی ہوتا ہے،اور بعض حالات میں آہستہ تلاوت افضل ہے جب کہ تلاوت میں ریا کا اندیشہ ہو،یا کسی نمازی وغیرہ کو تکلیف ہو(مرقات و شامی)یہ اختلاف احکام ان تلاوتوں میں ہے جن میں جہر یا اخفاء واجب نہ ہو،ورنہ نماز ظہر و عصر میں اخفاء اور فجر وغیرہ میں جہر واجب ہے۔(لمعات و اشعہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2202