Main Icon

باب :آدابِ تلاوت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2200

قرآن کے فضائل کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَا مِنِ امْرِئٍ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ ثُمَّ يَنْسَاهُ إِلَّا لَقِيَ اللّٰهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَجْذَمَ"رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ.

وعن سعد بن عبادة قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "ما من امرئ يقرأ القرآن ثم ينساه إلا لقي الله يوم القيامة أجذم"رواه أبو داود والدارمي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سعد ابن عبادہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کوئی نہیں جو قرآن پڑھ کر بھلا دے مگر وہ قیامت کے دنتعالٰی سے کوڑھی ہو کر ملے گا ۱؎(ابو داؤد،دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎اس حدیث کی بہت شرحیں کی گئیں جن میں قوی تر یہ ہے کہ جوشخص قرآن شریف پورا یا اس کی کوئی سورۃ حفظ کرے،پھر اس کا دور چھوڑ دے،جس سے وہ بھول جائے،تو یہ شخص قیامت میں کوڑھی اٹھے گا،اس کی کوڑھ اس کے اس جرم کی ملامت ہوگی۔جس سے سب لوگ پہچان لیں گے،بعض نے فرمایا کہ اجذم سے مراد دانت گرا ہوا ہے،بعض کا خیال ہے کہ اجذم سے مراد مقطوع الدلیل ہے جو رب تعالٰی کے سامنے بول نہ سکے وغیرہ مگر پہلی تفسیر اعلیٰ ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2200