Main Icon

باب :آدابِ تلاوت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2192

قرآن کے فضائل کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَا أَذِنَ اللّٰهُ لِشَيْءٍ مَا أَذِنَ لِنَبِيٍّ يَتَغَنّٰى بِالْقُرْآنِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "ما أذن الله لشيء ما أذن لنبي يتغنى بالقرآن". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اللہ تعالٰی نے اپنے نبی کو جتنا خوش الحانی سے تلاوت قرآن کا حکم دیا اتنا کسی اور چیز کا نہ دیا ۱؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎ظاہر یہ ہے کہ یہاں نبی کریم سے مراد تمام انبیائے کرام ہیں اور قرآن سے مراد تمام آسمانی کتابیں اورصحیفےہیں یعنی اللہ تعالٰی نے اپنے نبیوں کو جس قدر تاکیدی حکم اس کا دیا کہ اپنی کتب آسمانی خوش الحانی سے پڑھیں اتنا تاکیدی حکم اور دوسری چیزوں کا نہ دیا اور ممکن ہے کہ نبی سے مراد حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم ہوں اور قرآن سے مراد یہ ہی قرآن شریف ہویعنی اللہ تعالٰی نے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو جیسا تاکیدی حکم یہ دیا کہ قرآن کریم خوش الحانی سے تلاوت کریں اتنا تاکیدی حکم دوسرا نہ دیا کیونکہ خوش الحانی قرآن کریم کی زینت ہے جس سے قرآن کا حسن اور بھی بڑھ جاتاہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2192