Main Icon

باب :آدابِ تلاوت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2208

قرآن کے فضائل کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يَقُوْلُ: "حَسِّنُوا الْقُرْآنَ بِأَصْوَاتِكُمْ، فَإِنَّ الصَّوْتَ الْحَسَنَ يَزِيْدُ الْقُرْآنَ حُسْنًا". رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ.

وعن البراء بن عازب قال: سمعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول: "حسنوا القرآن بأصواتكم، فإن الصوت الحسن يزيد القرآن حسنا". رواه الدارمي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت براء ابن عازب سے فرماتے ہیں میں نے رسولصلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ قرآن کو اپنی آوازوں سے زینت دو کیونکہ اچھی آواز قرآن کا حسن بڑھا دیتی ہے ۱؎(دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎اس کی شرح پہلے گزر چکی کہ ہر شخص کی آواز اس کے لحاظ سے ہوگی،ایک ہی شخص اپنی آواز بری بھی نکال سکتا ہے اور کچھ اچھی بھی تو قرآن کی تلاوت میں اچھی آواز استعمال کرو یہ مطلب نہیں کہ جس کی آواز اچھی نہ ہو وہ تلاوت قرآن ہی نہ کرے،حضرت بلال اسی موٹی آواز سے ہی اذان و تلاوت کرتے تھے رب تعالٰی کو وہ ہی پیاری تھی کہ وہاں دل کی آواز سنی جاتی ہے۔شعر
گفت ہا تف بازاز بانگ بلال خوش شدے بر عرش رب ذوالجلال
مطلب یہ ہے کہ حتی الامکان خوش الحانی سے قرآن شریف پڑھوتاکہ سننے والوں کو قرآن کی طرف میلان ہو یہ نہ ہو کہ شعر
گر تو قرآن بدیں نمط خوانی میروی رونق مسلمانی
یا اس اچھی آواز کامطلب وہ ہے جو اگلی حدیث میں آرہا ہے یعنی دور والی آواز جو درد دل کا پتہ دے،خشوع و خضوع ظاہرکرے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2208