Main Icon

باب :آدابِ تلاوت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2191

قرآن کے فضائل کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ قَتَادَةَ قَالَ: سُئِلَ أَنَسٌ: كَيْفَ كَانَتْ قِرَاءَةُ النَّبِيِّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-؟ فَقَالَ: كَانَتْ مَدًّا مَدًّا، ثُمَّ قَرَأَ: بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ، يَمُدُّ بِبِسْمِ اللّٰهِ، وَيَمُدُّ بِالرَّحْمٰنِ، وَيَمُدُّ بِالرَّحِيْمِ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

وعن قتادة قال: سئل أنس: كيف كانت قراءة النبي -صلى الله عليه وسلم-؟ فقال: كانت مدا مدا، ثم قرأ: بسم الله الرحمن الرحيم ، يمد ببسم الله، ويمد بالرحمن، ويمد بالرحيم. رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت قتادہ سے فرماتے ہیں حضرت انس سے پوچھا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاوت کیسی تھی ۱؎تو فرمایا مد سے تھی کھینچ کر پھر آپ نے پڑھابسم اﷲ الرحمن الرحیمکہبسم اﷲکو کھینچتے تھے پھررحمانکو اوررحیمکو کھینچتے تھے ۲؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی کیا حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آہستہ تلاوت فرماتے تھے،ٹھہرٹھہر کر یا جلدی اور تیزی سے تاکہ ہم بھی اسی طرح تلاوت کیا کریں۔معلوم ہوا کہ تلاوت قرآن کریم میں بھی سنت کا لحاظ رکھے ۔کوشش کرے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح تلاوت کرے کیونکہ طریقہ تلاوت بھی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو رب تعالٰی ہی نے سکھایاہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"اِنَّ عَلَیۡنَا جَمْعَہٗ وَ قُرْاٰنَہٗ
۲
؎یہاں مد سے مراد اصلی وطبعی مد ہے کہ اگر الف،ی واو ساکن کو قدرے کھینچ کر نہ پڑھا جائے تو یہ حروف ادا نہیں ہوتے بلکہ زبر،زیر،پیش بن جاتے ہیں اسے مد اصلی کہتے ہیں ایک مد فرعی ہوتا ہے جس کے سبب دو ہیں یا تو ان ہی حروف یعنی الف ی و کے بعد ہمزہ آجائے یا حرف ساکن خواہ مشدد ہو یا غیر مشدد،تو انہیں کھینچ کر پڑھنا پڑتا ہے جیسے لام،میم،نون،کے الف ی واؤ یا دواب یا ضالین کے آ۔یا اسرائیل کا الف ہمزہ خواہ ایک ہی کلمہ میں ان حروف کے بعد واقعی ہو جیسےالسّماءُ،السُّوْءُ،جَیئَیا دوسرے کلمہ میں جیسےمآ انزل،قالو امناوغیرہ مدّ کی پوری تحقیق کتب تجویز میں ملاحظہ فرمایئے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2191