Main Icon

باب :آدابِ تلاوت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2190

قرآن کے فضائل کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جُنْدُبِ بْنِ عَبْدِ اللّٰهِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "اقْرَؤُوا الْقُرْآنَ مَا ائْتَلَفَتْ عَلَيْهِ قُلُوْبُكُمْ، فَإِذَا اخْتَلَفْتُمْ فَقُوْمُوْا عَنهُ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن جندب بن عبد الله قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "اقرؤوا القرآن ما ائتلفت عليه قلوبكم، فإذا اختلفتم فقوموا عنه". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جندب ابن عبد اللہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تک تمہارا دل لگے قرآن پڑھتے رہو ۱؎پھر جب ادھر ادھر ہونے لگو تو اس سے اٹھ جاؤ ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہ قاعدہ ان خوش نصیب لوگوں کے لیے ہے جن کو قرآن شریف کی تلاوت میں لذت اور حضور قلب میسر ہوتا ہے اور کبھی زیادہ تلاوت کی وجہ سے دل اکتا جاتا ہے،وہ دل لگنے تک پڑھتے رہیں مگر وہ شخص جس کا دل تلاوت میں لگتا ہی نہ ہو وہ دل کو مجبور کرکے تلاوت کرے دل نہ لگنے کے عذر سے تلاوت چھوڑ نہ دے پہلے کچھ دن دل پر جبر کرنا پڑے گا پھران شاء اللهدل لگنے لگے گا جیسا کہ تجربہ ہے۔
۲
؎یعنی کچھ دیر کے لیے تلاوت بند کردو حتی کہ وہ حالت جاتی رہے تمام عبادات کا یہی حال ہے کہ دل لگاکر ادا کرو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2190