Main Icon

باب :آدابِ تلاوت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2194

قرآن کے فضائل کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَتَغَنَّ بِالْقُرْآنِ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

وعنه قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "ليس منا من لم يتغن بالقرآن". رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو قرآن خوش الحانی سے نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں ۱؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یتغنیا توغناءٌسے بنا ہے بمعنی خوش الحانی اور اچھے لہجے سے پڑھنا یاغناسے بنا بمعنی بے پرواہی بے نیازی یعنی جوشخص قرآن شریف خوش الحانی سے نہ پڑھے وہ ہمارے طریقہ سے خارج ہے ۔معلوم ہوا کہ بری آواز والا بھی بقدر طاقت عمدگی سے قرآن شریف پڑھے کہ خوش آواز ہی قرآن کریم کا زیور ہے،جس سے تلاوت میں کشش پیدا ہوتی ہے لوگوں کے دل مائل ہوتے ہیں۔اس لیے یہ تبلیغ کا ذریعہ ہے یا جسے اللہ قرآن کا علم دے اور وہ لوگوں سے بے نیاز نہ ہوجائے بلکہ اپنے کو ان کا محتاج سمجھے وہ ہمارے طریقہ یا ہماری جماعت سے خارج ہے عالم صرف اللہ رسول کا محتاج ہے اور باقی مخلوق عالم دین کی حاجت مند ہے،اس لیے معلوم ہوا کہ قرآن پڑھ کر بھیک مانگنا یا علما کا مالداروں کے دروازوں پر ذلت سے جانا ممنوع ہے، اللہ تعالٰی علمائے دین کو کفایت بھی دے قناعت بھی۔(ازلمعات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2194