- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 8
- فضائل کا بیان
- حدیث نمبر 6283
باب:اس امت کے ثواب کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6283
فضائل کا بیان - جلد 8
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّمَا أَجَلُكُمْ فِي أَجَلِ مَنْ خَلَا مِنَ الْأُمَمِ مَا بَيْنَ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلٰى مَغْرِبِ الشَّمْسِ وَإِنَّمَا مَثَلُكُمْ وَمَثَلُ الْيَهُودِ وَالنَّصَارٰى كَرَجُلٍ اسْتَعْمَلَ عُمَّالًا فَقَالَ: مَنْ يَعْمَلُ إِلٰى نِصْفِ النَّهَارِ عَلٰى قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ فَعَمِلَتِ الْيَهُودُ إِلٰى نِصْفِ النَّهَارِ عَلٰى قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ ثُمَّ قَالَ: مَنْ يَعْمَلُ لِي مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ إِلٰى صَلَاةِ الْعَصْرِ عَلٰى قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ فَعَمِلَتِ النَّصَارٰى مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ إِلٰى صَلَاةِ الْعَصْرِ عَلٰى قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ. ثُمَّ قَالَ: مَنْ يَعْمَلُ لِي مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلٰى مَغْرِبِ الشَّمْسِ عَلٰى قِيرَاطَيْنِ قِيرَاطَيْنِ؟ أَلَا فَأَنْتُمُ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلٰى مَغْرِبِ الشَّمْسِ أَلَا لَكُمُ الْأَجْرُ مَرَّتَيْنِ فَغَضِبَتِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارٰى فَقَالُوا: نَحْنُ أَكْثَرُ عَمَلًا وَأَقَلُّ عَطَاءً قَالَ اللهُ تَعَالٰى: هَلْ ظَلَمْتُكُمْ مِنْ حَقِّكُمْ شَيْئًا؟ قَالُوا: لَا. قَالَ اللّٰهُ تَعَالٰى: فَإِنَّهٗ فَضْلِي أُعْطِيهِ مَنْ شِئْتُ ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ
عن ابن عمر عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " إنما أجلكم في أجل من خلا من الأمم ما بين صلاة العصر إلى مغرب الشمس وإنما مثلكم ومثل اليهود والنصارى كرجل استعمل عمالا فقال: من يعمل إلى نصف النهار على قيراط قيراط فعملت اليهود إلى نصف النهار على قيراط قيراط ثم قال: من يعمل لي من نصف النهار إلى صلاة العصر على قيراط قيراط فعملت النصارى من نصف النهار إلى صلاة العصر على قيراط قيراط. ثم قال: من يعمل لي من صلاة العصر إلى مغرب الشمس على قيراطين قيراطين؟ ألا فأنتم الذين يعملون من صلاة العصر إلى مغرب الشمس ألا لكم الأجر مرتين فغضبت اليهود والنصارى فقالوا: نحن أكثر عملا وأقل عطاء قال الله تعالى: هل ظلمتكم من حقكم شيئا؟ قالوا: لا. قال الله تعالى: فإنه فضلي أعطيه من شئت ". رواه البخاري
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابن عمر سے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں کہ گزشتہ امتوں کی عمروں کے مقابلہ میں تمہاری عمر وہ ہے جو عصر کی نماز کے درمیان سے سورج ڈوبنے کے درمیان ہے ۱؎اور تمہاری اور یہودونصاریٰ کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کچھ مزدوروں سے کام کراتے ہیں تو کہے کون شخص ہے جو میرا کام کرے ایک ایک قیراط پر تو یہود نے دوپہر تک ایک ایک قیراط پر کام کیا پھر مالک نے کہا کہ کون شخص ہے جو دوپہر سے عصر کی نماز تک میرا کام کرے گا ایک ایک قراط پر۲؎تو نصاریٰ نے دوپہر سے عصر کی نماز تک ایک ایک قیراط پر کام کیا پھر اس نے کہا کہ کون میرا کام کرے گا نماز عصر سے سورج ڈوبنے تک دو دو قیراط پر،آگاہ رہو کہ تم ہی وہ ہو جو عصر کی نماز سے سورج ڈوبنے تک کام کرتے ہو تمہاری مزدوری دوگنی ہے ۳؎تو یہودونصاریٰ غصہ ہوکر بولے کہ کام میں ہم زیادہ ہیں اور عطیے کم ہیں ۴؎اللہ تعالٰی نے فرمایا کہ کیا میں نے تمہارے حق میں سے کچھ کم کیا وہ بولے نہیں اللہ تعالٰی نے فرمایا کہ یہ میرا فضل ہے جسے چاہوں میں دوں۵؎(بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎یہاںاجلبمعنی عمر ہے نہ کہ بمعنی موت،رب فرماتاہے:"وَ اَجَلٌ مُّسَمًّی عِنۡدَہٗ"اور آیتِ کریمہ"اِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ"میںاجلبمعنی موت ہے وہ یہاں مراد نہیں۔یعنی پچھلی امتوں کے لحاظ سے اے میری امت والو تمہاری عمریں بہت کم ہیں لہذا تمہارے کام بھی تھوڑے ہی ہوں گے۔
۲؎یعنی یہود کا عمل بہت زیادہ ہے ثواب تھوڑا اور عیسائیوں کے اعمال اگرچہ یہود سے کم ہیں مگر ثواب ان کا اتنا ہی یہود کی برابر،یہود کے احکام شرعیہ بہت سخت تھے عیسائیوں کے نرم لہذا یہ تشبیہ بہت موزوں ہے۔
۳؎اس تشبیہ سے اشارۃً معلوم ہو رہا ہے کہ عصر کا وقت دو مثل سایہ سے شروع ہوتا ہے کیونکہ وہ ظہر کے وقت سے کم ہے اگر ایک مثل پر شروع ہوجاتا تو ظہر کے وقت کے برابر بلکہ زیادہ بھی ہو جایا کرتا لہذا یہ حدیث امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی قوی دلیل ہے۔
۴؎دیکھو شمسون یہودی نے ایک ہزار مہینے اللہ تعالٰی کی عبادت کی یعنی سوا اکیاسی سال مسلمانوں سے کہا گیا کہ "لَیۡلَۃُ الْقَدْرِ خَیۡرٌ مِّنْ اَلْفِ شَہۡرٍ"تمہارے لیے ایک شب قدر ایک ہزار ماہ سے بہتر ہے کہ تم صرف اس رات میں عبادت کرلو تو تم کو اس شمسون اسرائیلی سے زیادہ ثواب ملے گا تو ظاہر ہے کہ ان قوموں کو شکایت ہوگی کہ مسلمانوں پر اس رحم و کرم کی وجہ کیا ہے۔خیال رہے کہ یہ مقابلہ اصلی یہودیوں عیسائیوں سے ہے جو اس زمانہ میں تھے جب کہ ان کا دین منسوخ نہیں ہوا تھا،اب جب کہ ان کا دین منسوخ ہوچکا تو انہیں کسی عمل کا کوئی ثواب نہیں کیونکہ ثواب کے لیے ایمان شرط ہے کٹی ہوئی شاخ پانی سے سرسبز نہیں رہ سکتی۔
۵؎یعنی فضل عدل کے خلاف نہیں تم سے جو وعدہ کیا گیا تھا وہ پورا پورا تم کو دے دیا گیا۔خیال رہے کہ یہ تشبیہ صرف زیادتی میں ہے ورنہ مسلمانوں کا ثواب ان قوموں سے دوگنا نہیں بلکہ سات سو گنا اور اس سے زیادہ تک ہے پھر اسلامی احکام ان کے احکام سے بہت نرم،ان پر چوتھائی مال زکوۃ ہم پر چالیسواں حصہ،ان کے لیے ترک دنیا ثواب ہمارے لیے رمضان کے آخری عشرہ کے اعتکاف میں پوری زندگی ترک دنیا کا ثواب،حضور کے صدقے سے ان کو ہم سے کوئی نسبت ہی نہیں۔معلوم ہوا کہ نسبت بڑی بہاریں دکھاتی ہے مسلمانوں کی یہ عظمتیں صرف حضور کی نسبت سے ہیں۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6283