Main Icon

باب:اس امت کے ثواب کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6293

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ اللّٰهَ تَجَاوَزَ عَنْ أُمَّتِي الْخَطَأَ وَالنِّسْيَانَ وَمَا اسْتُكْرِهُوا عَلَيْهِ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه وَالْبَيْهَقِيُّ

وعن ابن عباس أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «إن الله تجاوز عن أمتي الخطأ والنسيان وما استكرهوا عليه» . رواه ابن ماجه والبيهقي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ الله نے میری امت کی بھول چوک سے درگزر کی ۱؎اور جس پر وہ مجبور کیےجاویں ۲؎(ابن ماجہ بیہقی)

شرح حدیث

۱∞؎خطا اور نسیان دونوں مقابل ہیں عمد کے،خطاء میں مانع یاد ہوتا ہے مگر کام کا ارادہ نہیں ہوتا جیسے روزہ دار نے کلی کی بغیرارادہ پانی حلق سے اتر گیا یہ ہوئی خطا،نسیان میں کام تو ارادہ سے ہوتا ہے مگر مانع یاد نہیں ہوتا جیسے روزہ دار کو روزہ یا د نہ رہا اور اس نے کھا پی لیا۔اس حدیث کا مقصد یہ ہے کہ الله تعالٰی نے میری امت پر یہ کرم فرمایا کہ ان کی بھول چوک معاف فرمادی، اس میں ان پر نہ گناہ ہوگا نہ پکڑ اگرچہ بعض صورتوں میں ان دونوں پر احکام شرعیہ مرتب ہوجاتے ہیں جیسے نماز میں بھول کر بات کرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے یا قتل خطاء میں کفارہ یا دیت لازم ہوجاتے ہیں،نماز کا واجب بھول جانے سے سجدہ سہو واجب ہوجاتا ہے۔
۲
؎یعنی مسلمان جو برا کام مجبورًا کرلے تو وہ گنہگار نہ ہوگا لہذا مجبورًا منہ سے کفریہ بات بول دینے والا کافر نہ ہوگا، مجبورًا شراب پلائے جانے والا گنہگار نہ ہوگا۔غرضکہ یہاں مجبور سے عصیان کی نفی ہے احکام کی نفی نہیں اس لیے یہاں تجاوز فرمایا یعنی رب نے درگزر فرائی لہذا مجبور کی طلاق واقع ہوجاتی ہے یہ ہی احناف کا مذہب ہے۔خیال رہے کہ ہر جرم کی مجبوری علیحدہ ہے کفر بکنے کے لیے خطرہ جان ضروری ہے،جبرًا طلاق و نکاح کے لیے دوسرے جبر بھی کافی ہیں اس کی بحث کتب فقہکتاب الاکراہمیں مطالعہ فرماؤ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6293