Main Icon

باب:اس امت کے ثواب کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6294

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهٖ أَنَّهٗ سَمِعَ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي قَوْلِهٖ تَعَالٰى: [كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ] قَالَ: «أَنْتُمْ تُتِمُّونَ سَبْعِينَ أُمَّةً أَنْتُمْ خَيْرُهَا وَأَكْرَمُهَا عَلَى اللّٰهِ تَعَالٰى»رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَاحَدِيثٌ حَسَنٌ

وعن بهز بن حكيم عن أبيه عن جده أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول في قوله تعالى: [كنتم خير أمة أخرجت للناس] قال: «أنتم تتمون سبعين أمة أنتم خيرها وأكرمها على الله تعالى»رواه الترمذي وابن ماجه والدارمي وقال الترمذي: هذاحديث حسن

حدیث ترجمہ

روایت ہے بہز ابن حکیم سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی ۱؎انہوں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو فرماتے سنا رب تعالٰی کے اس فرمان کے متعلق کہ تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے پیدا کی گئی۲؎فرمایا تم ستر امتیں پوری کرو گے۳؎تم الله پر ان سب سے بہتر اور عزت والے ہو۴؎(ترمذی، ابن ماجہ،دارمی)ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎آپ بہز ابن حکیم ابن معاویہ ابن حیدہ ہیں،قشیری بصری ہیں،حق یہ ہے کہ آپ تابعی ہیں،ثقہ ہیں لہذا یہ روایت معاویہ ابن حیدہ سے ہے۔
۲
؎اس آیت کے دو مطلب ہوسکتے ہیں: تم لوگ الله کے علم میں بہترین امت تھے تمہارا انتخاب پہلے ہی ہوچکاتھا یا یہ کہ تم بہترین امت ہو۔حق یہ ہے کہ اس میں خطاب ساری امت رسول الله صلی الله علیہ و سلم سے ہے کہ اس امت میں اگرچہ گنہگار بھی ہیں مگر چونکہ ان کو حضور صلی الله علیہ و سلم سے نسبت ہے اس لیے اس خیریت میں وہ بھی داخل ہیں،موتی کیچڑ میں سن کر بھی موتی رہتا ہے بشرطیکہ حضور سے وابستہ رہیں۔
۳
؎ستر سے مراد یا بیان زیادتی ہے جیسے اردو میں لفظ بیسیوں،یا ستر کا عدد مراد ہے یعنی دنیا میں بڑی بڑی امتیں ستر گزریں۔خیال رہے کہ بعض انبیاء کرام ایسے گزرے جن کا کوئی امتی نہ بنا نہ کوئی ان پر ایمان نہ لایا،بعض پر صرف ایک آدمی ایمان لایا،بعض پر دو چار،بعض پر کچھ اور زیادہ مگر جن نبیوں پر بڑی جماعتیں ایمان لائیں جنہیں امت کثیر کہا جاوے وہ کل ستر ہیں انہتّر ہم سے پہلے ستر کا عدد امت رسول الله نے پورا کیا۔
۴
؎یعنی جیسے حضور صلی الله علیہ و سلم تمام نبیوں سے افضل ہیں یوں ہی آپ کی امت تمام امتوں سے افضل بلکہ حضور کے صحابہ تمام نبیوں کے اصحاب سے افضل،حضور انور کے اہل بیت تمام نبیوں کے اہل بیت سے افضل بلکہ حضور انور کا مکہ،مدینہ منورہ دوسرے نبیوں کی بستیوں سے افضل،حضور کی ازواج پاک تمام نبیوں کی ازواج سے افضل غرضکہ افضلیت حضور کے دم قدم سے وابستہ ہیں۔الحمدﷲ!کہ مرآت شرح مشکوٰۃ دو رمضان المبارک ۱۳۷۸ھ؁ ∞ پنجشنبہ کو شروع ہوکر آج اکیس رمضان ۱۳۸۸ھ؁ ∞پنجشنبہ کے دن دس بجے دوپہر کو ختم ہوئی،آج اس گنہگار نے حضرت علی مشکل کشا شیر خدا،جناب فاطمہ زہرا،عائشہ صدیقہ،خدیجۃ الکبریٰ، شہداء بدر رضوان الله علیہم اجمعین کا عرس کرکے مرآت کو ختم کیا،ان تمام حضرات کی وفات و شہادت ماہ رمضان ہی میں ہے،رب تعالٰی قبول فرماوے اور اسے میرے لیے کفارہ سیئات وصدقہ جاریہ بنائے۔جو صاحب اس سے فائدہ اٹھائیں وہ مجھ گنہگار کی مغفرت کی دعا کریں کہ اسی لالچ میں میں نے یہ محنت کی ہے۔شعر
اے کہ برمامی روی دامن کشاں از سر اخلاص الحمد سے بخواں
و صلی الله تعالٰی علی حبیبہٖ سیدنا محمد وآلہٖ واصحابہٖ اجمعین برحمتہٖ وھو ارحم الرحمین !احمد یار خاں نعیمی اشرفی،مقیم گجرات(مغربی پاکستان)
۲۱ رمضان المبارک ۱۳۸۸ھ
؁ ∞۱۲، دسمبر ۱۹۶۸ء؁

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6294