Main Icon

باب:اس امت کے ثواب کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6292

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا فَسَدَ أَهْلُ الشَّامِ فَلَا خَيْرَ فِيْكُمْ وَلَا يَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي مَنْصُورِينَ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ حَتّٰى تَقُومَ السَّاعَةُ» قَالَ ابْنُ الْمَدِينِيِّ: هُمْ أَصْحَابُ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَاحَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

وعن معاوية بن قرة عن أبيه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إذا فسد أهل الشام فلا خير فيكم ولا يزال طائفة من أمتي منصورين لا يضرهم من خذلهم حتى تقوم الساعة» قال ابن المديني: هم أصحاب الحديث. رواه الترمذي وقال: هذاحديث حسن صحيح

حدیث ترجمہ

روایت ہے معاذ ابن قرہ سے ۱؎وہ اپنے والد سے راوی فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ جب شام والے بگڑ جائیں گے تو تم میں بھلائی نہ ہوگی۲؎اور میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ فتح مند رہے گا انہیں نقصان نہ پہنچاسکے گا وہ جو انہیں رسوا کرے حتی کہ قیامت قائم ہوجاوے۳؎ابن مدینی کہتے ہیں کہ وہ حدیث والے حضرات ہیں ۴؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث حسن بھی ہے صحیح بھی ۵؎

شرح حدیث

۱∞؎آپ تابعی ہیں،جنگ جمل کے دن پیدا ہوئے اور ۱۱۳؁ ∞ ایک سو تیرہ میں وفات پائی،آپ کی کنیت ابو ایاس ہے، بصری ہیں،آپ کے والد قرہ ابن ایاس قرنی ہیں۔
۲
؎یہ واقعہ قریب قیامت ہوگا۔شام ابدال کا مرکز ہے وہاں آخر تک ایمان رہے گا،جب وہاں کفر چھا جائے اور کوئی مؤمن نہ رہے تو سمجھو کہ شام کے ابدال ختم ہوگئے اور دنیا اولیاء الله سے خالی ہوگئی،دنیا کا اولیاء الله سے خالی ہونا قیامت کی آمدت ہے۔چنانچہ جب قیامت آوے گی تو روئے زمین پر کوئی الله الله کہنے والا نہ ہوگا۔خیال رہے کہ اس وقت مدینہ منورہ ویران ہوچکا ہوگا وہاں کوئی آبادی نہ ہوگی،روضہ انور کی حفاظت جنگلی جانور کرتے رہیں گے لہذا حدیث پاک پر یہ اعتراض نہیں کہ اس سے لازم آتا ہے کہ مدینہ منورہ پہلے ہی بگڑ چکا ہوگا وہاں کفروشرک پھیل چکا ہوگا۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ امیر معاویہ اور ان کے ساتھی فاسد یعنی کافر بلکہ فاسق العقیدہ نہ تھے ورنہ اس وقت ہی قیامت آجاتی کیونکہ امیر معاویہ کا دارالخلافہ دمشق تھا،امیر معاویہ کی سلطنت پر شام والے متفق تھے یزید پلید کی حکومت پر اہل شام بھی متفق نہ تھے۔
۳
؎اس فرمان عالی کی شرح ابھی کچھ پہلے گزر چکی کہ حضور کی امت میں ایک جماعت تاقیامت حق پر رہے گی حضور کی ساری امت گمراہ نہ ہوگی اور وہ جماعت حقہان شاءاللهغالب رہے گی،کوئی ان کو فنا نہ کرسکے گا وہ حضرات اپنے مقصد میں یعنی دین اسلام کو باقی رکھنے میں ہمیشہ کامیاب رہیں گے۔
۴
؎حدیث والوں سے مراد آج کل کے وہابی نہیں جو اپنے کو اہلِ حدیث کہتے ہیں ان بیچاروں کو نہ حدیث کی خبر ہے نہ ان کا حدیث پر عمل،نہ انہوں نے فن حدیث کی کوئی خدمت کی،ان بیچاروں کو تو یہ بھی خبر نہیں کہ سنت اور حدیث میں کیا فرق ہے ورنہ یہ لوگ اپنے کو اہل سنت کہتے نہ کہ اہل حدیث بلکہ اس سے مراد حضرات محدثین کرام اور فقہاء عظام ہیں جنہوں نے اپنی عمریں اس فن شریف کی خدمت میں گزاریں۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ اصحاب حدیث سے مراد اہلِ سنت و الجماعت ہیں۔خیال رہے کہ ہر فقیہ محدث ضرور ہوگا کیونکہ علم فقہ بغیر حدیث دانی نہیں حاصل ہوتا۔
۵
؎یعنی یہ حدیث بہت سی اسنادوں سے مروی ہے بعض اسنادوں سے صحیح ہے بعض سے حسن۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6292