Main Icon

باب:اس امت کے ثواب کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6284

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ مِنْ أَشَدِّ أُمَّتِي لِي حُبًّا نَاسٌ يَكُونُونَ بَعْدِي يَوَدُّ أَحَدُهُمْ لَوْ رَآنِي بِأَهْلِهٖ وَمَالِهٖ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «إن من أشد أمتي لي حبا ناس يكونون بعدي يود أحدهم لو رآني بأهله وماله» . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ میری امت میں مجھ سے بہت محبت کرنے والے وہ لوگ ہیں جو میرے بعد ہوں گے ۱؎ان میں سے ہر ایک تمنا کریگا وہ اپنے گھر بار مال کے عوض مجھے دیکھ لیتا۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎اس فرمان عالی میں تاقیامت ہم جیسے دور محجور مسلمانوں کی عزت افزائی ہے،اس فرمان پاک کا مقصد یہ نہیں ہے کہ بعد کے لوگ حضرات صحابہ سے افضل ہوں گے بلکہ مقصد یہ ہے کہ ان کی بن دیکھے مجھ سے محبت بہت ہی زیادہ قابل قدر ہوگی۔نوعیت محبت میں افضلیت اور چیز ہے کیفیت میں افضیلت کچھ اور۔تمام امت ملکر ایک صحابی کے گرد قدم کو نہیں پہنچ سکتی،وہ حضرات اسلام کی صف اول کے مقتدی ہیں جو امام المرسلین کو دیکھتے حضور کی سنتے ہیں،بعد کے لوگ پچھلی صفوں کے ہیں جو امام کی حرکات و کلام ان حضرات کے ذریعہ جانتے مانتے ہیں۔
۲
؎باھلہمیں ب عوض کی یعنی تمنا کریں گے کہ ہماری جان مال اولاد سب کچھ فدا ہوجاوے مگر ایک نظارہ جمال جہاں آراء کا میسر ہوجاوے،آج مدینہ منورہ کی گلیاں دیکھنے کے لیے کیسے کیسے جتن کرتے ہیں مگر بعض کو میسر نہیں ہوتی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6284