Main Icon

باب:اس امت کے ثواب کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6286

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَثَلُ أُمَّتِي مَثَلُ الْمَطَرِ لَا يُدْرٰى أَوَّلُهٗ خَيْرٌ أَمْ آخِرُهٗ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

عن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «مثل أمتي مثل المطر لا يدرى أوله خير أم آخره» . رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے میری امت کی مثل اس بارش کی سی ہے کہ خبر نہیں کہ اگلی خیر ہے یا پچھلی ۱؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی جیسے موقع پر آنے والی بارشوں کے متعلق یہ نہیں کہا جاسکتا کہ فلاں بارش مفید تھی باقی بے کار بلکہ ساری بارشیں فائدہ مند ہوتی ہیں کہ اگلی بارش سے کھیتوں کی نشوونما ہوتی ہے آخر بارشوں سے دانہ وغیرہ کا پکنا اسی طرح میری ساری امت میں خیر ہے حضرات صحابہ میں بھی اور ان کے بعد تاقیامت مسلمانوں میں بھی کہ یہ سب لوگ دین کی مختلف خدمات انجام دیتے رہیں گے ،یہ مطلب نہیں کہ حضور کو علم نہیں کہ صحابہ افضل ہیں کہ بعد کے لوگ۔چنانچہ زمانہ نبوی سے آج تک مختلف شکلوں میں دینی خدمات انجام دے رہے ہیں اگرچہ حضرات صحابہ افضل ہیںخیر القرون قرنیمگر کوئی مؤمن بے کار نہیں۔(مرقات،اشعہ)یہ فرمان عالی ایسا ہے جیسے لوگ کہتے ہیں کہ وہ قوم ڈھلے ہوئے حلقے کی طرح ہے خبر نہیں کہ اس کے کنارے کہاں ہیں۔ایک شاعر کہتا ہے شعران الخیار من القبائل واحد وبنو حنیفۃ کلھم اخیارخلاصہ یہ ہے کہ میری امت کے اگلے پچھلے ایک دوسرے سے گتھے ہوئے ہیں خیروخوبی میں وابستہ ہیں کوئی خوبی سے خالی نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6286