Main Icon

باب:اس امت کے ثواب کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6291

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي جُمُعَةَ رَجُلٌ مِنَ الصَّحَابَةِ: حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهٗ مِنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ: نَعَمْ أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا جَيِّدًا تَغَدَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ. أَحَدٌ خَيْرٌ منَّا؟ أَسْلَمْنَاوَجَاهَدْنَا مَعَكَ. قَالَ: «نَعَمْ قَوْمٌ يَكُونُونَ مِنْ بَعْدِكُمْ يُؤْمِنُونَ بِي وَلَمْ يَرَوْنِي» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالدَّارِمِيُّ وَرَوٰى رَزِينٌ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ مِنْ قَوْلِهٖ: قَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ. أَحَدٌ خَيْرٌ مِنَّا إِلٰى آخِرِهٖ

وعن ابن محيريز قال: قلت لأبي جمعة رجل من الصحابة: حدثنا حديثا سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم. قال: نعم أحدثكم حديثا جيدا تغدينا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ومعنا أبو عبيدة بن الجراح فقال: يا رسول الله. أحد خير منا؟ أسلمناوجاهدنا معك. قال: «نعم قوم يكونون من بعدكم يؤمنون بي ولم يروني» . رواه أحمد والدارمي وروى رزين عن أبي عبيدة من قوله: قال: يا رسول الله. أحد خير منا إلى آخره

حدیث ترجمہ

روایت ہے ابن محیریز سے۱؎فرماتے ہیں میں نے ابو جمعہ سے کہا۲؎(جو ایک صحابی ہیں)کہ ہم کو ایسی حدیث سنائیے جو آپ نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم سے سنی ہو فرمایا ہاں میں تم کو ایک کھری حدیث سناتا ہوں۳؎ہم نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کے ساتھ ناشتہ کیا ہمارے ساتھ ابو عبیدہ ابن جراح بھی تھے انہوں نے عرض کیا یارسول الله کیا کوئی ہم سے بہتر ہے ہم اسلام لائے ہم نے آپ کے ساتھ جہاد کیا۴؎فرمایا ہاں وہ لوگ جو تمہارے بعد ہوں گے مجھے دیکھا نہ ہوگا اور مجھ پر ایمان لائیں گے ۵؎(احمد،دارمی)اور رزین نے ابوعبیدہ سے روایت کی ان کے اس قول سے کہ عرض کیا یارسول الله کیا کوئی ہم سے اچھا ہے آخر تک۔

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام عبدالله ہے،ابومحیریز کنیت ہے،تابعی ہیں،بہت ہی متقی پرہیزگار تھے۔(اشعہ)
۲
؎ابو جمعہ کے نام شریف میں اختلاف ہے ان کا نام یا تو حبیب ابن سباع ہے یا جنید ابن سباع صحابی ہیں،آخر میں شام میں قیام رہا۔(مرقات)
۳
؎جیدبنا ہےجودۃسے بمعنی اچھی،کھری جو تم کو دین و دنیا میں بہت ہی نافع ہو۔
۴
؎آپ کے یہ کلمات اپنی تعریف نہیں بلکہ الله کی نعمتوں کا اقرارہے یعنی رب تعالٰی نے ہم کو ایسی نعمتوں سے مالا مال فرمایا اس کا شکر ہے اس نے ہم کو ایمان،اسلام،جہاد،صحابیت،حضور کے دیدار سے مشرف فرمایا۔
۵
؎یعنی تم کو الله تعالٰی نے صحابیت،دیدار جمال یار وغیرہ نعمتوں سے مشرف فرمایا ہے تو ان لوگوں کو اس نعمت سے مالا مال کرے گا کہ وہ مجھے بغیر دیکھے مجھ پر ایمان لائیں گے،مجھ پر جان و مال فدا کریں گے،دین کی بڑی خدمات انجام دیں گے،فتنوں میں گھرے ہوں گے مگر دین پر قائم رہیں گے،اس خاص نعمت میں وہ تم سے بڑھ جائیں گے۔خیال رہے کہ یہ جزوی فضیلت ہے مطقًا فضیلت صحابہ کرام ہی کو حاصل ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6291