Main Icon

باب:اس امت کے ثواب کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6289

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ الْعَلَاءِ الْحَضْرَمِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّهٗ سَيَكُونُ فِي آخِرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ قَوْمٌ لَهُمْ مِثْلُ أَجْرِ أَوَّلِهِمْ يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُقَاتِلُونَ أَهْلَ الْفِتَنِ» رَوَاهُمَا الْبَيْهَقِيُّ فِي "دَلَائِل النُّبُوَّةِ".

وعن عبد الرحمن بن العلاء الحضرمي قال: حدثني من سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول: «إنه سيكون في آخر هذه الأمة قوم لهم مثل أجر أولهم يأمرون بالمعروف وينهون عن المنكر ويقاتلون أهل الفتن» رواهما البيهقي في "دلائل النبوة".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبدالرحمن ابن علاء حضرمی سے۱؎فرماتے ہیں کہ مجھ کو اس نے خبر دی جس نے نبی صلی الله علیہ و سلم سے سنا۲؎کہ فرماتے ہیں کہ اس امت کے آخر میں ایک ایسی قوم ہوگی جن کو اگلوں کا سا ثواب ہوگا۳؎وہ بھلائی کا حکم دیں گے برائی سے روکیں گے اور فتنوں والوں سے لڑیں گے۴؎یہ دونوں حدیثیں بیہقی نے دلائل النبوۃ میں روایت کیں۔

شرح حدیث

۱∞؎عبدالرحمن تو تابعی ہیں مگر ان کے والد علاء کا نام عبدالله ہے،حضر موت کے رہنے والے ہیں،حضور انور کے زمانہ میں بحرین کے حاکم مقرر ہوئے،حضرت صدیق اکبر فاروق اعظم نے انہیں قائم رکھا،ان کی وفات ۱۴؁ ∞ چودہ ہجری میں ہوئی،دیکھو اکمال،مرقات وغیرہ۔
۲
؎سننے والے صحابی کا نام نہ لیا اس سے حدیث کی صحت پرکوئی اثر نہیں پڑتا کہ تمام صحابہ عادل ہیں ان کا نام معلوم نہ ہو تو حدیث مجہول نہیں بنتی۔
۳
؎یعنی میری امت کے آخری لوگ اگرچہ میرے صحابہ کے سے اعمال نہیں کرسکیں گے مگر اجروثواب میرے صحابہ کا سا پائیں گے۔خیال رہے کہ ثواب اور چیز ہے درجہ اور مرتبہ کچھ اور ہے،ہوسکتا ہے کہ کسی کا ثواب حضرات صحابہ کے برابر ہوجاوے مگر کسی کا درجہ ان کے برابر نہیں ہوسکتا اگر بادشاہ کسی سپاہی کو وزیر کے برابر یا وزیر سے زیادہ انعام دے دے تو سپاہی کا عہدہ وزیر کے برابر نہیں ہوسکتا۔
۴
؎یہ اس فرمان عالی کی وجہ ہے یعنی جو فتنے روافض خوارج وہابیوں مرزائیوں وغیرہم کے ہوں ان فتنوں کا مقابلہ وہ ہی لوگ کریں گے اس لیے ان کو ثواب حضرات صحابہ کا سا ملے گا۔خیال رہے کہ قتال یعنی جہاد تلوار سے بھی ہوتا ہے،قلم سے بھی زبان سے بھی یہاں قتال ان سب کو شامل ہے،اسی طرح اچھی باتوں کا حکم بری باتوں سے روکنا بھی تلوار سے،قلم سے زبان سے عمل سے ہر طرح سے ہوتا ہے یہ فرمان ان سب کو بھی شامل ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6289