Main Icon

باب:اس امت کے ثواب کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6288

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهٖ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّ الْخَلْقِ أَعْجَبُ إِلَيْكُمْ إِيمَانًا؟» قَالُوا: فَالنَّبِيُّونَ قَالَ: «وَمَا لَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ وَالْوَحْيُ يَنْزِلُ عَلَيْهِمْ؟» قَالُوا: فَنَحْنُ. قَالَ: «وَمَا لَكُمْ لَا تُؤْمِنُونَ وَأَنَا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ؟» قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَعْجَبَ الْخَلْقِ إِلَيَّ إِيمَانًا لَقَوْمٌ يَكُونُونَ مِنْ بَعْدِي يَجِدُونَ صُحُفًا فِيهَا كِتَابٌ يُؤْمِنُونَ بِمَا فِيهَا»

وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أي الخلق أعجب إليكم إيمانا؟» قالوا: فالنبيون قال: «وما لهم لا يؤمنون والوحي ينزل عليهم؟» قالوا: فنحن. قال: «وما لكم لا تؤمنون وأنا بين أظهركم؟» قال: فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن أعجب الخلق إلي إيمانا لقوم يكونون من بعدي يجدون صحفا فيها كتاب يؤمنون بما فيها»

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ تمہارے نزدیک مخلوق میں کون زیادہ پیارے ایمان والا ہے ۱؎عرض کیا فرشتے فرمایا وہ کیوں ایمان نہ لائیں وہ تو اپنے رب کے پاس ہیں ۲؎بولے تو نبی حضرات،فرمایا وہ حضرات کیوں ایمان نہ لائیں ان پر تو وحی اترتی ہے۳؎لوگوں نے عرض کیا کہ تو ہم،فرمایا تم کیوں ایمان نہ لاؤ میں تو تمہارے درمیان ہوں۴؎فرماتے ہیں کہ پھر رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ مجھے ساری مخلوق میں پیاری ایمان والی وہ قوم ہے جو میرے بعد ہوگی وہ لوگ صحیفے پائیں گے جن میں وہ کتاب ہوگی وہ کتاب کی ہر چیز پر ایمان لائیں گے ۵؎

شرح حدیث

۱∞؎خلق سے مراد سارے اہلِ ایمان ہیں خواہ فرشتے ہوں یا جنات یا انسان یعنی ان سارے مؤمنوں میں زیادہ قابلِ قدر کس کا ایمان ہے،یہاں افضلیت کا ذکر نہیں۔
۲
؎صحابہ کرام سمجھے کہ اس سوال کا مقصد افضلیت کی تحقیق فرمانا ہے اس لیے انہوں نے فرشتوں کا نام لیا کہ وہ نورانی اور معصوم مخلوق ہے اسے رب تعالٰی سے بہت ہی قرب حاصل ہے،جواب میں فرمایا کہ ان کی افضلیت میں شک نہیں مگر جہاں اسباب ایمان بہت کم ہوں اور ایمان کامل ہو،دین کی خدمت مکمل ہو وہ بات فرشتوں میں موجود نہیں ان کا ایمان حیرت انگیز نہیں۔
۳
؎اس کا مطلب وہ ہی ہے جو ابھی کیا گیا کہ حضرات انبیاءکرام کا ایمان بھی حیرت کا باعث نہیں کیونکہ وہ وحی الٰہی اور وحی والے فرشتے کو دیکھتے ہیں ان کے اسباب ایمان بہت موجود ہیں لہذا اس سے یہ لازم نہیں کہ کسی کا ایمان نبی کے ایمان کے برابر ہوسکے۔
۴
؎یعنی تم نے مجھ کو دیکھا،مجھ پر وحی الٰہی آتے دیکھی،میرے معجزات دیکھے،حضرت جبریل کو شکل انسانی میں آتے دیکھا تمہارے لیے بھی ایمان لانے کے بہت اسباب ہیں وہ لوگ بتاؤ جن کے لیے اسباب ایمان نہ ہوں یا کم ہوں مگر وہ ایمان میں بہت پختہ ہوں۔
۵
؎یعنی میری وفات کے بعد سے تاقیام قیامت جو لوگ ایمان لائیں گے،جو صرف میرا نام سن کر ایمان لائیں گے وہ ایمان بہت ہی قابل قدر اور حیرت انگیز ہوگا کہ ان کا ایمان ہر طرح ایمان بالغیب ہوگا،فرشتوں نبیوں کا ایمان بالشہادۃ ہے حضرات صحابہ کا ایمان بعض چیزوں پر بالغیب ہے بعض پر بالشہادۃ۔حضرت عبدالله ابن مسعود فرماتے ہیں کہ ہم صحابہ نے حضور محمد مصطفی صلی الله علیہ و سلم کو اور ان کی شان اور ان کے معجزات کو آنکھوں دیکھا خدا کی قسم ایمان تو ان کا ہوگا جنہوں نے یہ کچھ نہ دیکھا اور ایمان لائیں گے پھر آپ نے یہ آیت پڑھی"یُؤْمِنُوۡنَ بِالْغَیۡبِ"۔(مرقات،اشعہ)خیال رہے کہ شعر
حسنِ یوسف پہ کٹیں مصر میں انگشت زناں سر کٹاتے ہیں ترے نام پہ مردان عرب
حضور صلی الله علیہ و سلم کی ادا حضور کا نام ایمان بخش ہے آج غازی عبدالقیوم،غازی عبدالرشید،غازی علم دین نے حضور کی عزت پر اپنے سر دے دیئے یہ ہے اس حدیث کا ظہور۔صحف سے مراد قرآن مجید کے صحیفے ہیں یا احادیث،فقہ،صوفیاء و علماء کی تصنیفات کے اوراق۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6288