Main Icon

باب:اس امت کے ثواب کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6287

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

عَنْ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهٖ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَبْشِرُوا إِنَّمَا مَثَلُ أُمَّتِي مَثَلُ الْغَيْثِ لَا يُدْرٰى آخِرُهٗ خَيْرٌ أَمْ أَوَّلُهٗ؟ أَوْ كَحَدِيقَةٍ أُطْعِمَ مِنْهَا فَوْجٌ عَامًا لَعَلَّ آخِرَهَا فَوْجًا أَنْ يَكُونَ أَعْرَضَهَا عَرْضًا وَأَعْمَقَهَا عُمْقًا وَأَحْسَنَهَا حُسْنًا كَيْفَ تَهْلِكُ أُمَّةٌ أَنَا أَوَّلُهَا وَالْمَهْدِيُّ وَسَطُهَا وَالْمَسِيحُ آخِرُهَا وَلٰكِنْ بَيْنَ ذٰلِكَ فَيْجٌ أَعْوَجُ لَيْسُوا مِنِّي وَلَا أَنَا مِنْهُمْ". رَوَاهُ رَزِينٌ.

عن جعفر عن أبيه عن جده قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أبشروا إنما مثل أمتي مثل الغيث لا يدرى آخره خير أم أوله؟ أو كحديقة أطعم منها فوج عاما لعل آخرها فوجا أن يكون أعرضها عرضا وأعمقها عمقا وأحسنها حسنا كيف تهلك أمة أنا أولها والمهدي وسطها والمسيح آخرها ولكن بين ذلك فيج أعوج ليسوا مني ولا أنا منهم". رواه رزين.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جعفر سے وہ اپنے والد سے راوی وہ اپنے دادا سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے خوش ہوجاؤ خوشی سناؤ کہ میری امت کی مثال بارش کی ہے نہیں کہا جاتا کہ اس کی پچھلی اچھی ہے یا کہ اگلی۲؎یا اس باغ کی سی ہے جس میں سے ایک سال ایک فوج نے کھایا پھر ایک سال دوسری فوج نے کھایا۳؎شاید کہ آخری فوج چوڑائی میں زیادہ چوڑی ہو اور گہرائی میں زیادہ گہری اور حسن میں زیادہ اچھی ہو۴؎وہ امت کیسے ہلاک ہوسکتی ہے جس کا اول میں ہوں اور اس کے درمیان مہدی ہوں اور آخر مسیح ہوں۵؎لیکن اس کے درمیان ٹیڑھی فوج ہے نہ وہ مجھ سے ہیں نہ میں ان سے۶؎(رزین)

شرح حدیث

۱∞؎اس فرمان عالی میںجدہکی ضمیر حضرت امام جعفر صادق کی طرف ہے،امام جعفر صادق محمد باقر کے بیٹے ہیں اور امام باقر کے والد،امام زین العابدین ان کے والد امام حسین ابن علی ابن ابی طالب ہیں اس اسناد کو محدثین سلسلۃ الذھب کہتے ہیں یعنی سونے کی زنجیر۔(مرقات)
۲
؎یعنی ساری امت خیر ہے ایک شاعر کہتا ہے۔شعرتشابہ یوماہ علینا فاشکلا فما نحن ندری ای یومیہ افضل
ایوم بداء العم ام یوم باسہ وما منھما الا اغز مجھل
۳؎یعنی باغ کے پھل جس بہار میں بھی کھاؤ لذت وہی ہوگی،میرے اسلام و احکام کے پھل تاقیامت جب بھی کھاؤ لذت و رحمت وہ ہی ہوگی،نیز ہر زمانہ میں علماء اولیاء،مجاہدین شہداء ہوتے رہیں گے یہ قرآن اورہماری ذات کریم یہ نعمتیں تاقیامت تقسیم کرتے رہیں گے اور دنیا ان سے فیوض پاتی رہے گی۔
۴
؎یعنی ممکن ہے کہ ایک باغ سے اگلی فوج کے مقابلہ میں آخری فوج زیادہ کھائے اور اس باغ کے پھلوں سے مختلف قسم کے رس شربت عرق وغیرہ تیار کرے اور لوگوں کو مختلف طریقوں سے استعمال کرائے اسی طرح ہوسکتا ہے کہ میری امت کے آخری لوگ اس قرآن کی گہرائیوں میں زیادہ جائیں اس سے طرح طرح کے رس تیار کریں۔ دیکھ لو کہ علم حدیث،اسماء الرجال، فقہ،اصول فقہ،تفسیر،شریعت اور طریقت کے چار چار سلسلے بعد ہی میں علماء کرام نے اسی قرآن و حدیث سے تیار کیے یہ ہے اس پیش گوئی کا ظہور،اس زبان کا ہر لفظ لوہے کا خط ہوتا ہے اس کے باوجود افضلیت مطلقًا صحابہ کرام ہی کو حاصل ہے۔
۵
؎اگرچہ حضرت مسیح اور امام مہدی ایک ہی زمانہ میں ہوں گے مگر چونکہ عیسیٰ علیہ السلام کی وفات امام مہدی کے بعد ہوگی امام مہدی پہلے وفات پائیں گی اس لیے امام مہدی کو وسط اور حضرت مسیح کو آخر فرمایا۔
۶
؎یعنی میرے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام و امام مہدی کے درمیان ٹیڑھی اور بے دین جماعتیں بھی ہوں گی جیسے مرزائی،چکڑالوی،وہابی بہائی وغیرہم میں ان سے بیزار ہوں وہ میرے نہیں میں ان کا نہیں،جو حضور کا نہ ہو وہ رب کا بھی نہیں ہوتا۔شعر
ان کےدر کا جوہواخلق خدا اس کی ہوئی ان کے در سے جو پھرا الله اس سے پھر گیا

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6287