Main Icon

باب : عمل میں میانہ روی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1241

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُفْطِرُ مِنَ الشَّهْرِ حَتّٰى يُظَنَّ أَنْ لَا يَصُومَ مِنْهُ وَيَصُومُ حَتّٰى يُظَنَّ أَنْ لَا يُفْطِرَ مِنْهُ شَيْئًا وَكَانَ لَا تَشَاءُ أَنْ تَرَاهُ مِنَ اللَّيْلِ مُصَلِّيًا إِلَّا رَأَيْتَهٗ وَلَا نَائِمًا إِلَّا رَأَيْتَهُ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

عن أنس قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يفطر من الشهر حتى يظن أن لا يصوم منه ويصوم حتى يظن أن لا يفطر منه شيئا وكان لا تشاء أن تراه من الليل مصليا إلا رأيته ولا نائما إلا رأيته. رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم مہینے میں اتنا افطار فرماتے کہ گمان ہوتا آپ اس میں کوئی روزہ نہ رکھیں گے اور روزے رکھتے حتی کہ گمان ہوتا کہ آپ اس میں بالکل افطار نہ کریں گے ۱؎تم رات میں آپ کو نماز پڑھتا دیکھنا نہ چاہتے مگر دیکھ لیتے اور سوتا دیکھنا نہ چاہتے مگر دیکھ لیتے ۲؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی حضور صلی الله علیہ وسلم رمضان شریف کے سوا کسی مہینہ میں سارا ماہ روزے نہ رکھتے تھے بلکہ کچھ تاریخوں میں مسلسل روزے اور کچھ مسلسل افطار۔خیال رہے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم نے روزہ داؤدی کی تعریف فرمائی یعنی ہمیشہ ایک دن روزہ ایک دن افطار مگر خود اپنا یہ عمل ہے۔معلوم ہوا کہ روزہ داؤ دی سنت قولی ہے اور اس طرح روزے سنت فعلی اس کا ثواب زیادہ اس عمل کا قرب زیادہ جیسے بعد وتر نفل کھڑے ہو کر پڑھنے کا ثواب زیادہ بیٹھ کر پڑھنے کا قرب زیادہ کہ یہ عملی ہے۔
۲
؎یعنی نہ تمام رات سوتے تھے نہ تمام رات جاگتے تھے اول رات سوتے اور آخر رات جاگتے اور بعد تہجد پھر سوجاتے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1241