Main Icon

باب : عمل میں میانہ روی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1249

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْہٗ : أَنَّهٗ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ الرَّجُلِ قَاعِدًا. قَالَ: «إِنْ صَلّٰى قَائِمًا فَهُوَ أَفْضَلُ وَمَنْ صَلّٰى قَاعِدًا فَلَهٗ نِصْفُ أَجْرِ الْقَائِمِ وَمَنْ صَلّٰى نَائِمًا فَلَهٗ نِصْفُ أَجْرِ الْقَاعِدِ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

وعنہ : أنه سأل النبي صلى الله عليه وسلم عن صلاة الرجل قاعدا. قال: «إن صلى قائما فهو أفضل ومن صلى قاعدا فله نصف أجر القائم ومن صلى نائما فله نصف أجر القاعد» . رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے کہ انہوں نے نبی صلی الله علیہ وسلم سے بیٹھ کر نماز پڑھنے کے بارے میں پوچھا آپ نے فرمایا اگر کھڑے ہو کر نماز پڑھو تو افضل ہے اور جو بیٹھ کر نماز پڑھے تو اسے کھڑے ہونے والے سے آدھا ثواب ہے ۱؎اور جو لیٹ کر نماز پڑھے تو اسے بیٹھنے سے آدھا ثواب ۲؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہاں سوال نفل نماز کے بارے میں تھا۔جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ جو شخص نفلی نماز قیام پر قادر ہوتے ہوئے بیٹھ کر پڑھے تو اسے آدھا ثواب ملے گا،فرض نماز بلا عذر بیٹھ کر نہیں ہوگی بلکہ جو فرض میں قیام فرض نہ مانے وہ کافر ہے کیونکہ اس کی فرضیت ضروریات دین سے ہے۔
۲
؎اس حدیث کی بنا پر خواجہ حسن بصری وغیرہ علماء نے فرمایا کہ نفلی نماز باوجود قیام پر قدرت ہونے کے لیٹ کر بھی جائز ہے مگر اسے ثواب بیٹھنے سے آدھا ملے گا یعنی قیام سے چہارم۔ احناف کے نزدیک نفلی نماز بھی بلا عذر لیٹ کر جائز نہیں، اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جو بیمار فرضی نماز بہ تکلف کھڑے ہو کر یا بیٹھ کر پڑھ سکے مگر پھر لیٹ کر پڑھ لے تو اگرچہ بیماری کی وجہ سے نماز توہوجائے گی لیکن قیام جیسا ثواب نہ ملے گا کیونکہ یہ مریض بہ تکلف قیام یا قعود پر قادر تھا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1249