Main Icon

باب : عمل میں میانہ روی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1253

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِيْ الْجَعْدِ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ مِنْ خُزَاعَةَ: لَيْتَنِي صَلَّيْتُ فَاسْتَرَحْتُ فَكَ أَنَّهُمْ عَابُوا ذٰلِكَ عَلَيْهِ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَقِمِ الصَّلَاةَ يَا بِلَالُ أَرِحْنَا بِهَا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

وعن سالم بن أبي الجعد قال: قال رجل من خزاعة: ليتني صليت فاسترحت فك أنهم عابوا ذلك عليه فقال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «أقم الصلاة يا بلال أرحنا بها» . رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حصرت سالم ابن ابی الجعد سے فرماتے ہیں کہ خزاعہ کے ایک آدمی نے کہا کاش میں نماز پڑھ لیتا تو راحت پا جاتا، شاید لوگوں نے اس بات کو معیوب سمجھا ۱؎تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ اے بلال نماز کی تکبیر کہو ہمیں اس سے راحت پہنچاؤ۲؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎وہ یہ سمجھے کہ نماز انہیں بوجھ ہے اور یہ کہہ رہے ہیں کہ میں نماز سے ہلکا ہوکر سو رہتا یہ معنی واقعی برے ہیں۔
۲
؎یعنی نماز ہماری راحت کا ذریعہ ہے اس میں مشغول ہو کر چین ملتا ہے اسی لیئےبِھَافرمایامنھانہ فرمایا،اس کی شرح وہ حدیث ہے کہ فرماتے ہیں کہ نماز میں میری آنکھ کی ٹھنڈک ہے،یہی مطلب ان صحابی کا تھا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1253