Main Icon

باب : عمل میں میانہ روی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1245

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ وَهُوَ يُصَلِّي فَلْيَرْقُدْ حَتّٰى يَذْهَبَ عَنْهُ النَّوْمُ فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا صَلّٰى وَهُوَ نَاعِسٌ لَا يدْرِي لَعَلَّه يَسْتَغْفِرُ فَيَسُبَّ نَفْسَهٗ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن عائشة قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إذا نعس أحدكم وهو يصلي فليرقد حتى يذهب عنه النوم فإن أحدكم إذا صلى وهو ناعس لا يدري لعله يستغفر فيسب نفسه»(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

ٍ∞روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب تم میں سے کوئی نماز پڑھتے ہوئے اونگھے تو سولے ۱؎حتی کہ نیند جاتی رہے کیونکہ جب کوئی اونگھتے نماز پڑھے گا تو نہیں جانے گا کہ شاید دعائے مغفرت کرے تو اپنے کو بددعا دے لے ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎معلوم ہوا کہ اونگھتے ہوئے نماز پڑھنا مکروہ و ممنوع ہے کہ جس کی وجہ آگے آرہی ہے۔
۲
؎مثلًا اونگھتے ہوئے بجائےاِغْفِرْلِیْکےاِعْفِرْلِیْکہہ جائےغفرکے معنی ہیں بخشا،عفر کے معنی ہیں مٹی میں ملانا ،ذلیل و خوار کرنا اور بعض ساعتیں قبولیت کی ہوتی ہیں کہ جو زبان سے نکلے وہ ہوجاتا ہے اس لیئے بہت احتیاط چاہیئے۔خیال رہے کہ بعض دفعہ مقتدی امام کے پیچھے اونگھ جاتے ہیں انہیں منہ دھو کر کھڑا ہونا چاہیے مگر ا س اونگھ کی وجہ سے نماز باجماعت نہ چھوڑنی چاہیئے،یہاں تہجد وغیرہ نوافل کے احکام بیان ہورہے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1245