Main Icon

باب : عمل میں میانہ روی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1243

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «خُذُوا مِنَ الْأَعْمَالِ تُطِيقُونَ فَإِنَّ اللهَ لَا يُمِلُّ حَتّٰى تملُّوْا»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

و عنها قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «خذوا من الأعمال تطيقون فإن الله لا يمل حتى تملوا»(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتی ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے بقدر طاقت اعمال اختیار کرو ۱؎کیونکہ الله ملال نہیں ڈالتا حتی کہ تم خود ملال میں پڑو۲؎(مسلم بخاری )

شرح حدیث

۱∞؎خیال رہے کہ یہ تمام کلام نفلی عبادات کے لیئے ہے کہ بقدر طاقت شروع کرو جو نبھا سکو،فرائض تو پورے ہی پڑھنے ہوں گے لہذا حدیث کا یہ مطلب نہیں کہ اگر دو وقت کی نماز ہی پڑھ سکو تو اتنی ہی پڑھ لیا کرو لہذا حدیث صاف ہے، واجبات و سنن فرائض کے تابع ہیں ان کی پابندی لازم ہے۔
۲
؎یہ ترجمہ نہایت موزوں ہے یعنی اگر تم خود ملال و مشقت والے کاموں کو اپنے اوپر لازم کرلو کہ روزانہ سو رکعت پڑھنے یا ہمیشہ روزہ رکھنے کی نذر مان لو تو تم پر یہ چیزیں واجب ہوجائیں گی، پھر تم مشقت میں پڑ ھ جاؤگے مگر یہ مشقت رب نے نہ ڈالی تم نے خود اپنے پر ڈالی یہ معنی نہیں کہ الله ملال میں نہیں پڑتا حتی کہ تم ملال میں پڑو رب تعالٰی ملال کرنے سے پاک ہے۔ پہلاتملواباب افعال سے ہے ،دوسرانصرسے یہ حدیث دین و دنیا کے مشاغل کو شامل ہے درمیانی محنت کرنے والے ہمیشہ کامیاب ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1243