Main Icon

باب : عمل میں میانہ روی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1252

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: حُدِّثْتُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «صَلَاةُ الرَّجُلِ قَاعِدًا نِصْفُ الصَّلَاةِ» قَالَ: فَأَتَيْتُهٗ فَوَجَدْتُهٗ يُصَلِّي جَالِسًا فَوَضَعْتُ يَدِيْ عَلیٰ رَأسهٖ فَقَالَ: «مَالك يَا عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرٍو؟» قُلْتُ: حُدِّثْتُ يَا رَسُولَ اللهِ أَنَّكَ قُلْتَ: «صَلَاةُ الرَّجُلِ قَاعِدًا عَلیٰ نِصْفِ الصَّلَاةِ» وَأَنْتَ تُصَلِّي قَاعِدًا قَالَ: «أَجَلْ وَلَكِنِّي لَسْتُ كَأَحَدٍ مِنْكُمْ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

عن عبد الله بن عمرو قال: حدثت أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «صلاة الرجل قاعدا نصف الصلاة» قال: فأتيته فوجدته يصلي جالسا فوضعت يدي علی رأسه فقال: «مالك يا عبد الله بن عمرو؟» قلت: حدثت يا رسول الله أنك قلت: «صلاة الرجل قاعدا علی نصف الصلاة» وأنت تصلي قاعدا قال: «أجل ولكني لست كأحد منكم» . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبد الله ابن عمرو سے فرماتے ہیں مجھے خبر ملی کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا مرد کی نماز بیٹھ کر آدھی نماز ہے فرماتے ہیں کہ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ کو بیٹھ کر نماز پڑھتے پایا تو میں نے اپنا ہاتھ آپ کے سر پر رکھا فرمایا اے عبدالله ابن عمر کیا ہے میں نے عرض کیا یارسول الله مجھے خبر ملی ہے کہ آپ نے فرمایا مرد کی نماز بیٹھ کر آدھی نماز ہے ۱؎اور آ پ خود بیٹھ کر پڑھ رہے ہیں فرمایا ہاں لیکن میں تم میں سےکسی کی طرح نہیں ہوں ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎اس ساری حدیث میں نماز سے مراد نماز نفل ہے مرد کا ذکر اتفاقًا ہے ورنہ عورت کا بھی حکم یہی ہے۔خیال رہے کہ یہاں حضرت عبد الله کسی مجبوری سے سامنے حاضر نہ ہوسکے اور کچھ عرض نہ کرسکے اس لیئے حضور انور صلی الله علیہ وسلم کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیئے یہ عمل کیا لہذا یہ بے ادبی میں شمار نہیں یا یہ حضرت اس وقت آداب بارگاہ سے پورے واقف نہ تھے جیسے کہ بعض ناواقفوں نے حضورصلی الله علیہ وسلم کی داٖڑھی مبارک پر ہاتھ رکھ دیا ایسے ناواقفوں کی بے ادبی معاف ہوتی ہے۔
موسیا آداب دانا دیگر اند سوختہ جان در دانا دیگر اند
۲
؎یعنی ثواب کی کانٹ پھانٹ تمہارے لیئے ہے ہم کو بیٹھ کر نفل پڑھنے میں وہ ثواب ملتا ہے جو تمہیں کھڑے ہو کر پڑھنے میں نہیں ملتا یا یہ معنی ہیں کہ ہمیں جتنا ثواب کھڑے ہو کر پڑھنے میں ملتا ہے اتنا ہی بیٹھ کر یہ حدیث اس آیت کی تفسیر ہے "قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ" وہاں ظاہر کا ذکر ہے یہاں حقیقت کا یعنی حضور صلی الله علیہ وسلم ظاہری چہرے مہرے میں شکل انسانی میں ہیں اور حقیقت و مراتب میں فرشتے گرد قدم کو نہیں پہنچ سکتے اس سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو اس آیت کو آڑ بنا کر اپنے کو حضور صلی الله علیہ وسلم کا مثل اور حضور کو اپنی مثل سمجھتے ہیں(صلی الله علیہ وسلم)جب یہ لوگ ایمان کی وجہ سے ابوجہل کی مثل نہیں ہوسکتے تو نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نبوت کے ہوتے ہوئے ہماری مثل کیسے ہوسکتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1252