Main Icon

باب : عمل میں میانہ روی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1246

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «إِنَّ الدِّينَ يُسْرٌ وَلَنْ يُشَادَّ الدِّينَ أَحَدٌ إِلَّا غَلَبَهٗ فَسَدِّدُوا وَقَارِبُوا وَأَبْشِرُوا وَاسْتَعِينُوا بِالْغَدْوَةِ وَالرَّوْحَةِ وَشَيْءٍ مِنَ الدُّلْجَةِ» . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «إن الدين يسر ولن يشاد الدين أحد إلا غلبه فسددوا وقاربوا وأبشروا واستعينوا بالغدوة والروحة وشيء من الدلجة» . رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ دین آسان ہے ۱؎اور کوئی دین کو سخت نہ بنائے گا مگر دین اس پر غالب آجائے گا۲؎لہذا ٹھیک رہو خوش خبریاں دو۳؎اور صبح شام اندھیری رات کی نمازوں سے مددلو ۴؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اسلام آسان دین ہے اس میں یہودیت کی طرح سختیاں نہیں کہ ان کے ہاں ترک دنیا عبادت تھی ہمارے ہاں دنیا داری بھی عبادت ہے کہ سنت رسول الله صلی الله علیہ وسلم ہے ،رب فرماتا ہے:"یُرِیۡدُ اللّٰہُ بِکُمُ الْیُسْرَ
۲
؎یعنی جو شخص غیر ضروری عبادت کو اپنے لیئے ضروری بنالے وہ مغلوب ہو کر تھک کر رہ جاوے گا اور پھر گنہگار ہوگا مثلًا کوئی عمر بھر روزے رکھنے کی نذر مان لے تو نہ کرسکے گا پھر اپنی نذر کی وجہ سے گناہ گار ہوگا۔
۳
؎یعنی نیک اعمال کیئے جاؤ الله سے قرب اختیار کرو اور لوگوں کو دین سے ڈراؤ نہیں بلکہ خوشخبریاں دے کر ادھر مائل کرو یا خود خوش و خرم رہو کہ الله تعالٰی ہماری کو تاہیوں سے در گزر فرمائے گا،ہمیں اپنے فضل سے بخش دے گا، یعنی دوسروں کو خوشخبریاں دو یا خود خوشخبریاں لو۔
۴
؎اس طرح کہ صبح کو اشراق، شام کو اوابین، شب میں تہجد پڑھ لیا کرو اس سے سیرالی الله میں تمہیں مدد ملے گی۔سالک کے لیئے یہ عمل اچھے معاون ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1246