Main Icon

باب : عمل میں میانہ روی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1247

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «مَنْ نَامَ عَنْ حِزْبِهٖ أَوْ عَنْ شَيْءٍ مِنْهُ فَقَرَأَهٗ فِيمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَصَلَاةِ الظُّهْرِ كُتِبَ لَهٗ كَأَنَّمَا قَرَأَهٗ مِنَ اللَّيْلِ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «من نام عن حزبه أو عن شيء منه فقرأه فيما بين صلاة الفجر وصلاة الظهر كتب له كأنما قرأه من الليل» . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جو اپنے وظیفے یا اس کے کچھ حصے سے سو جائے پھر فجر و ظہر کے درمیان پڑھ لے تو ایسا ہی لکھا جائے گا گویا اس نے رات میں پڑھا ۱؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎اس سے بعض علماء نے فرمایا کہ تہجد رہ گئی ہو تو دوپہر سے پہلے اتنے نفل پڑھ لے تواِنْ شَاءَاللّٰهُتہجد کا ثواب مل جائے گا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ رات کا خلیفہ دن ہے رب تعالٰی فرماتا ہے:"جَعَلَ الَّیۡلَ وَالنَّہَارَخِلْفَۃً"لہذا رات کے اعمال دن میں ہوسکتے ہیں، نیزدن کے اول حصہ پر رات کے بعض احکام جاری ہیں اسی لیئے نفل اور رمضان کے روزے کی نیت ضحوہ کبریٰ سے پہلے ہوسکتی ہے گویا اس نے رات سے ہی نیت کی۔(ازمرقاۃ وغیرہ)اسی طرح اگر دن کا وظیفہ رہ جائے تو رات میں ادا کرلے کیونکہ دن کا خلیفہ رات ہے۔(لمعات وغیرہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1247