Main Icon

باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6056

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " بَيْنمَا رَجَلٌ يَسُوقُ بَقَرَةً إِذْ أَعْيَا فَرَكِبَهَا فَقَالَتْ: إِنَّا لَمْ نُخْلَقْ لِهٰذَاإِنَّمَا خُلِقْنَا لِحِرَاثَةِ الْأَرْضِ. فَقَالَ النَّاسُ: سُبْحَانَ اللّٰهِ بَقَرَةٌ تَكَلَّمُ ". فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَإِنِّي أُوْمِنُ بِهٰذَاأَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ» . وَمَا هُمَا ثَمَّ وَقَالَ: " بَيْنَمَا رَجُلٌ فِي غَنَمٍ لَهٗ إِذْ عَدَا الذِّئْبُ عَلٰى شَاةٍ مِنْهَا فَأَخَذَهَا فَأَدْرَكَهَا صَاحِبُهَا فَاسْتَنْقَذَهَا فَقَالَ لَهُ الذِّئْبُ: فَمَنْ لَهَا يَوْمَ السَّبْعِ يَوْمَ لَا رَاعِيَ لَهَا غَيْرِي؟ فَقَالَ النَّاسُ: سُبْحَانَ اللهِ ذِئْبٌ يتَكَلَّمُ؟ ". قَالَ: أُومِنُ بِهٖ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ " وَمَا هُمَا ثَمَّ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

عن أبي هريرة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " بينما رجل يسوق بقرة إذ أعيا فركبها فقالت: إنا لم نخلق لهذاإنما خلقنا لحراثة الأرض. فقال الناس: سبحان الله بقرة تكلم ". فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «فإني أومن بهذاأنا وأبو بكر وعمر» . وما هما ثم وقال: " بينما رجل في غنم له إذ عدا الذئب على شاة منها فأخذها فأدركها صاحبها فاستنقذها فقال له الذئب: فمن لها يوم السبع يوم لا راعي لها غيري؟ فقال الناس: سبحان الله ذئب يتكلم؟ ". قال: أومن به أنا وأبو بكر وعمر " وما هما ثم. (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت حضرت ابوہریرہ سے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی ہیں فرمایا کہ ایک شخص گائے لیے جارہا تھا کہ تھک گیا تو اس پر سوار ہوگیا وہ بولی کہ ہم اس کام کے لیے نہیں پیدا کیے گئے ہم زمین کی کھیتی کے لیے پیدا کیے گئے۱؎تو لوگ بولےسبحان اللهگائے بول رہی ہے تو رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ اس پر میں اور ابوبکرو عمر ایمان لائے حالانکہ وہ دونوں وہاں نہ تھے۲؎اور فرمایا کہ جب کہ ایک شخص اپنی بکریوں میں تھا کہ ان میں سے ایک بکری پر بھیڑیئے نے حملہ کیا اسے لے گیا اسے بکری والے نے پکڑ لیا اس سے چھڑا لیا تو اس سے بھیڑیئے نے کہا کہ درندوں کے دن اس کا کون محافظ ہوگا جس دن میرے سوا اس کا کوئی چرواہا نہ ہوگا تو لوگ بولےسبحان اللهبھیڑیا بول رہا ہے، حضور نے فرمایا کہ اس پر میں ایمان لایا اور ابوبکر اور عمر حالانکہ وہ دونوں وہاں نہ تھے۳؎(مسلم بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہ واقعہ گزشتہ زمانہ کا ہے شاید کسی اسرائیلی کا واقعہ ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ بیل کی پیٹھ پر سوار ہونا اس پر بوجھ لادنا بہتر نہیں اسے کھیتی میں ہی استعمال کروکیونکہ حضور انور نے یہ واقعہ بغیر تردیدنقل فرمایا۔(مرقات، اشعہ) جانوروں کو مروّجہ کاموں میں ہی استعمال کرنا بہتر ہے۔
۲
؎اس سے معلوم ہوا کہ حضور انور کو ان دونوں حضرات کے ایمان پر بہت ہی اعتماد تھا کہ جس چیز کو ہم قبول فرمالیں اس کو وہ دونوں حضرات ضرور مان لیں گے بغیر تردد اور بغیر ہیر پھیر کیے،جانور کا انسان سے کلام کرنا عقل سے وراء ہے مگر میری تصدیق کی وجہ سے وہ دونوں مان لیں گے ان کے ایمان کا میں ذمہ دار ہوں یہ ہی ان بزرگوں کی عظمت ہے۔حضور کا ہاتھ شریف حضرت عثمان کا ہاتھ بنا،بیعۃ الرضوان میں اور آج حضور انور کا دل و دماغ اور حضور انور کی زبان شریف حضرت ابوبکر و عمر کے دل و دماغ و زبان بنے یہ ہے ان بزرگوں کی شان۔
۳
؎یوم السبعیا توبسے ہے بمعنی درندہ،یوم السبعکے معنی درندوں والا دن۔اس سے کون سا دن مراد ہے اس میں بہت گفتگو ہے،بعض شارحین نے فرمایا کہ اس سے مراد قرب قیامت وہ جنگ عظیم ہے جب کہ لوگ جنگ کی وجہ سے اپنے جانوروں سے غافل ہوجائیں گے اور بھیڑیئے ان کی بکریاں گائے خوب کھائیں گے،بعض نے فرمایا کہ زمانہ جاہلیت میں لوگوں کا ایک میلہ ہوتا تھا جس میں لوگ شرکت کرنے کے لیے اپنے گاؤں خالی کرجاتے تھے،ان کے پیچھے درندے ان کے جانور آزادی سے کھاتے تھے،بعض نے فرمایا کہ یہ لفظیوم السیعہےیسے بمعنی عہدوسیلہ تب بھی مطلب یہ ہی ہوگا۔فقیر کے نزدیک یہ دونوں مطلب قوی نہیں کیونکہ یہاں تو یہ ہے کہ اس دن بھیڑیئے کے سواء کوئی راعی چرواہا نہ ہوگا جس سے معلوم ہورہا ہے کہ بھیڑیئے بکریوں کی حفاظت کریں گے۔ شکار مراد لینا بعید لہذا غالبًا اس سے مراد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زمانہ ہےجب شیر اور بھیڑ ایک گھاٹ پر پانی پئیں گے اس دن بھیڑیئے گویا بکریوں کے چرواہے ہوجائیں گے۔
۳
؎اس کا مطلب بھی وہ ہی ہے جو ابھی عرض کیا گیا کہ اس واقعہ کو میں جانتا ہوں اور حضرت ابوبکروعمر کی طرف سے اس پر ایمان لاتا ہوں۔یہ واقعہ درست ہے جو مجھے بذریعہ وحی یا کشف معلوم ہوا جس پر ایمان لانا ضروری ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6056