Main Icon

باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6068

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَن عَائِشَة قَالَتْ: بَيْنَا رَأْسُ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجْرِي لَيْلَةٍ ضَاحِيَةٍ إِذْ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ هَلْ يَكُونُ لِأَحَدٍ مِنَ الْحَسَنَاتِ عَدَدُ نُجُومِ السَّمَاءِ؟ قَالَ:«نَعَمْ عُمَرُ».قُلْتُ:فَأَيْنَ حَسَنَاتُ أَبِي بَكْرٍ؟ قَالَ: «إِنَّمَا جَمِيعُ حَسَنَاتِ عُمَرَ كَحَسَنَةٍ وَاحِدَةٍ مِنْ حَسَنَاتِ أَبِي بَكْرٍ» رَوَاهُ رَزِينٌ

وعن عائشة قالت: بينا رأس رسول الله صلى الله عليه وسلم في حجري ليلة ضاحية إذ قلت: يا رسول الله هل يكون لأحد من الحسنات عدد نجوم السماء؟ قال:«نعم عمر».قلت:فأين حسنات أبي بكر؟ قال: «إنما جميع حسنات عمر كحسنة واحدة من حسنات أبي بكر» رواه رزين

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ جب رسول الله صلی الله علیہ و سلم کا سر مبارک ایک چاندنی رات میں میری گود میں تھا ۱؎کہ بولی یارسول الله کیا کسی کی نیکیاں آسمان کے تاروں کے برابر ہوں گی۲؎فرمایا ہاں وہ حضرت عمر ہیں ۳؎میں بولی تو جناب ابوبکر کی نیکیاں کہاں گئیں ۴؎فرمایا کہ حضرت عمر کی ساری نیکیاں ابوبکر کی نیکیوں میں سے ایک نیکی کی طرح ہیں ۵؎(رزین)

شرح حدیث

۱∞؎ضاحیۃبنا ہےضحوسے بمعنی چمکدار روشن۔اس سے مراد وہ رات ہے جس میں چاندنی ہو اور بادل نہ ہو، آسمان صاف ہو،چاند خوب چمک رہا ہو۔حضرت عائشہ صدیقہ کی گود اس وقت عرش معلی سے افضل ہوگئی ہوگی کہ وہ صاحب قران صلی الله علیہ وسلم کی رحل بنی رضی الله عنہا۔
۲
؎اس سوال سے معلوم ہو رہا ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله عنہا کا عقیدہ یہ تھا کہ حضور صلی الله علیہ و سلم کو ہر آسمان کے ہر گوشہ کی خبر ہے اور زمین کے ہر کونہ اور تاقیامت اپنے ہر امتی کے ہر عمل کی خبر ہے کیونکہ تارے مختلف آسمانوں پر ہیں اور امت کی عبادتیں زمین کے مختلف گوشوں میں دن کے اجیالے میں رات کے اندھیرے میں ہوں گی۔دو چیزوں کی برابری یا کمی بیشی وہ ہی بتاسکتا ہے جسے دونوں کی خبر ہو یہ ہے حضرت صدیقہ ام المؤمنین کا عقیدہ۔
۳
؎یہ ہے حضور انور کا علم کہ نہ یہ فرمایا کہ جبریل امین کو آنے دو پوچھ کر بتائیں گے نہ یہ کہ قلم دوات کاغذ لاؤ ٹوٹل لگا کر کہیں گے،نہ یہ کہ ذرا مجھے سوچ کر حساب لگا لینے دو بلاتأمل فرمایا کہ میری ساری امت میں حضرت عمر وہ ہیں جن کی نیکیاں تعداد میں آسمانوں کے تاروں کی برابر ہیں یہ ہے حضور کا علم غیب کلی۔
۴
؎آپ سمجھیں کہاحدمیں حضرت ابوبکر صدیق بھی داخل ہیں اور ان کی نیکیاں حضرت عمر کی نیکیوں سے کم ہیں۔
۵
؎اس ایک نیکی میں بہت گفتگو ہے کہ اس سے کون سی نیکی مراد ہے۔فقیر کے نزدیک اس سے مراد ہجرت کی رات غار ثور میں حضور انور کی خدمت مراد ہے،اس رات حضرت صدیق نے تہجد نہیں پڑھی تھی اور کوئی عبادت نہیں کی تھی حضور انور کی بے مثال خدمت کی تھی اور آپ کا مبارک سر اپنے زانو پر رکھ کر خوب جی بھر کر اس صورت پاک کے نظارے کیے تھے،یہ ایک نیکی دنیا بھر کی ساری نیکیوں سے بڑھ کر قرار پائی۔شعر
ثابت ہوا کہ جملہ فرائض فروع ہیں اصل الاصول بندگی اس تاجور کی ہے

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6068