Main Icon

باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6062

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ:كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ لَمْ يَرْفَعْ أَحَدٌ رَأْسَهٗ غَيْرُ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ كَانَا يَتَبَسَّمَانِ إِلَيْهِ وَيَتَبَسَّمُ إِلَيْهِمَا رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. وَقَالَ: هٰذَاحَدِيثٌ غَرِيبٌ

وعن أنس قال:كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا دخل المسجد لم يرفع أحد رأسه غير أبي بكر وعمر كانا يتبسمان إليه ويتبسم إليهما رواه الترمذي. وقال: هذاحديث غريب

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم جب مسجد میں تشریف لاتے تو سوائے ابوبکر و عمر کے کوئی اپنا سر نہ اٹھاتاتھا ۱؎یہ دونوں حضرات حضور کی طرف دیکھ کر مسکراتے تھے اور حضور انہیں دیکھ کر مسکراتے تھے۲؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎حضور کی مجلس اقدس میں سب لوگ نیچے سر نیچی نگاہ کیے خاموش بیٹھتے تھے جیسے پرندوں کا شکاری بالکل خاموش سکون سے بیٹھتا ہے یہ تھا اس بارگاہ کا ادب۔
۲
؎پیارا پیارے کو دیکھ کر خوشی سے مسکراتا ہے یہاں وہ رنگ تھا دوسرے صحابہ میں ادب کا ظہور ہے یہاں محبوبیت کا جلوہ گری یعنی یہ دونوں صاحب اسرار اور بارگاہ عالی میں بہت باریاب تھے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6062