Main Icon

باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6058

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:« إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ لَيَتَرَاءَوْنَ أَهْلَ عِلِّيِّينَ كَمَا تَرَوْنَ الْكَوْكَبَ الدُّرِّيَّ فِي أُفُقِ السَّمَاءِ وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ مِنْهُمْ وَأَنْعَمَا».رَوَاهُ فِي «شَرْحِ السُّنَّةِ» وَرَوٰى نَحْوَهٗ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ

عن أبي سعيد الخدري أن النبي صلى الله عليه وسلم قال:« إن أهل الجنة ليتراءون أهل عليين كما ترون الكوكب الدري في أفق السماء وإن أبا بكر وعمر منهم وأنعما».رواه في «شرح السنة» وروى نحوه أبو داود والترمذي وابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے کہ نبی صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ جنتی لوگ علیّین والوں کو دیکھیں اور دکھائیں گے جیسے تم کنارہ آسمان پر چمک دار تارے کو دیکھتے ہو ۱؎اور ابوبکروعمر انہیں میں سے ہیں اور یہ دونوں بہت اچھے ہیں ۲؎اور ابوداؤد،ترمذی،ابن ماجہ نے اس کی مثل روایت کی۔

شرح حدیث

۱∞؎علیّین ایک دفتر کا نام بھی ہے اور جنت کے اعلیٰ درجہ کا نام بھی،قرآن مجید میں دفتر کو علیّون فرمایا گیا"وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا عِلِّیُّوۡنَ كِتٰبٌ مَّرْقُوۡمٌ"۔یہاں جنت کے اعلیٰ درجہ کو مراد لیا گیا ہے جیسے سجّین دفتر کانام بھی ہے جس میں دوزخیوں کے نام تحریر ہیں اور دوزخ کے سب سے نیچے حصہ کا نام بھی،یعنی علیّین جنت کے درجوں سے ایسا اونچا ہے جیسا آسمان زمین سے اونچا اور علیّین والے دوسرے جنتیوں کو ایسے نظر آئیں گے جیسے زمین والوں کو تارے نظر آتے ہیں وہ ایک دوسرے کو دکھائیں گے دیکھو وہ ہیں حضرت صدیق وہ ہیں حضرت عمر۔
۲
؎یعنی حضرت ابوبکر و عمر سارے علیّین والوں سے افضل و اعلیٰ ہوں گے،جب یہ جنت کے نیچے درجوں میں جھانکیں گے تو ان درجوں میں ایسی چاندنی پھیل جاوے گی جیسے زمین پر چودھویں رات کے چاند سے پھیل جاتی ہے،ان کی شانان شاءاللهوہاں دیکھیں گے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6058