Main Icon

باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6064

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ حَنْطَبٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأٰى أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ فَقَالَ: «هٰذَا نِ السَّمْعُ وَالْبَصَرُ» رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ مُرْسَلًا

وعن عبد الله بن حنطب أن النبي صلى الله عليه وسلم رأى أبا بكر وعمر فقال: «هذا ن السمع والبصر» رواه الترمذي مرسلا

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبدالله ابن حنطب سے کہ نبی صلی الله علیہ و سلم نے جناب ابوبکر و عمر کو دیکھا تو فرمایا یہ کان اور آنکھیں ہیں ۱؎(ترمذی،مرسلًا)

شرح حدیث

۱∞؎اس فرمان عالی پر چار شرحیں ہوسکتیں ہیں: (۱)یہ دونوں مسلمانوں کے کان و آنکھیں ہیں کہ جیسے انسان بغیر کان و آنکھ سے کچھ نہ دیکھ سکے نہ سن سکے ایسے ہی مسلمان ان کا دامن چھوڑ کر نہ راهِ ہدایت دیکھ سکے نہ قرآن و حدیث،نہ الله رسول کی بات سن سکے(۲)یہ دونوں دین اسلام کی آنکھیں اور کان ہیں کہ جیسے جسم کی تکمیل آنکھوں کانوں سے ہوتی ہے ایسے ہی دین کی تکمیل ان بزرگوں سے ہے قرآن و حدیث ان کے ذریعہ سے سمجھو(۳)یہ دونوں میرے کان و آنکھ ہیں جیسے ہرشخص کو اپنے آنکھ کان بڑے پیارے ہوتے ہیں کہ ان دونوں کی ہر طرح حفاظت کرتا ہے ایسے ہی یہ دونوں میرے پیارے وزیر ہیں مجھے بڑے محبوب ہیں،اعلیٰ وزیر بادشاہ کی آنکھ کان ہوتے ہیں اس معنی کی تشریح اگلی حدیث میں آرہی ہے(۴)یہ دونوں سراپا آنکھ و کان ہیں جیسے آنکھ دیکھنے سے سیر نہیں ہوتی،کان سننے سے سیر نہیں ہوتے ایسے ہی یہ دونوں مجھے دیکھنے میری سننے سے کبھی سیر نہیں ہوتے۔ (لمعات،مرقات،اشعہ)ان کا عقیدہ تو یہ ہے۔شعر
تجھی کو دیکھنا تیری ہی سننا تجھ میں گم ہونا حقیقت معرفت اہلِ طریقت اس کو کہتے ہیں
ریاضت نام ہے تیری گلی میں آنے جانے کا تصور میں تیرے رہنا عبادت اس کو کہتے ہیں
ان دونوں نے دیکھا تو حضور کو اور سنی تو حضور کی،یہ وہ جسم ہیں جن کی جان حضور ہیں رضی الله تعالٰی عنہما۔آنکھیں و کان سارے اعضاء سے افضل ہیں،رب فرماتا ہے:"
وَ جَعَلَ لَکُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْـِٕدَۃَ"یوں ہی سارے اہل اسلام میں یہ دونوں افضل ہیں۔کان افضل ہیں آنکھ سے کہ آنکھ کے بغیر علم حاصل کیا جاسکتا ہے مگر کان کے بغیر نہیں اس لیے کان کا ذکر پہلے فرمایا آنکھ کا بعد میں۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6064