Main Icon

باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6066

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِرَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَأَيْتُ كَأَنَّ مِيزَانًا نَزَلَ مِنَ السَّمَاءِ فَوُزِنْتَ أَنْتَ وَأَبُو بَكْرٍ فَرَجَحْتَ أَنْتَ وَوُزِنَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَرَجَحَ أَبُو بَكْرٍ وَوُزِنَ عُمَرُ وَعُثْمَانُ فَرَجَحَ عُمَرُ ثُمَّ رُفِعَ الْمِيزَانُ"فَاسْتَاءَ لَهَا رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي فَسَاءَهٗ ذٰلِكَ.فَقَالَ:«خِلَافَةُ نُبُوَّةٍ ثُمَّ يُؤْتِي اللّٰهُ الْمُلْكَ مَنْ يَشَاءُ».رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ

وعن أبي بكرة أن رجلا قال لرسول الله صلى الله عليه وسلم: رأيت كأن ميزانا نزل من السماء فوزنت أنت وأبو بكر فرجحت أنت ووزن أبو بكر وعمر فرجح أبو بكر ووزن عمر وعثمان فرجح عمر ثم رفع الميزان"فاستاء لها رسول الله صلى الله عليه وسلم يعني فساءه ذلك.فقال:«خلافة نبوة ثم يؤتي الله الملك من يشاء».رواه الترمذي وأبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوبکرہ سے کہ ایک شخص نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم سے عرض کیا کہ میں نے خواب میں دیکھا ۱؎کہ آسمان سے ایک ترازو اتری تو آپ اور ابوبکر تولے گئے آپ بڑھ گئے ۲؎اور حضرت ابوبکر و عمر تولے گئے تو ابوبکر بڑھ گئے اور تولے گئے عمر و عثمان تو عمر وزنی رہے ۳؎پھرترازو اٹھائی گئی ۴؎اس سے رسول الله صلی الله علیہ و سلم غمگین ہوگئے یعنی یہ خواب حضور کو گراں گزری ۵؎پھر فرمایا کہ یہ نبوت کی خلافتیں ہیں پھر الله جسے چاہے گا ملک دے گا ۶؎(ترمذی،ابوداؤد)۷؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی میں نے خواب دیکھا۔خیال رہے کہ صحابہ کرام کے خواب خصوصًا وہ خواب جو بارگاهِ رسالت میں پیش ہوکر تائید حاصل کرلیں وہ کشف و الہام بلکہ وحی کا پر تو ہیں،اسلام میں مروجہ اذان حضرات صحابہ کی خواب اور حضورصلی الله علیہ و سلم کی تائید سے جاری ہوئی۔خیال رہے کہ بکرہ کنویں کی گھڑی یا خرچی کو کہتے ہیں۔آپ غزوہ طائف میں مسلمان ہوئے اور اپنے کو طائف کے قلعہ سے مسلمانوں کے لشکر میں اس طرح پہنچایا کہ اپنے کو ایک کنوئیں کی چرخی پر ڈال دیا اور ڈھلکتے ہوئے مسلمانوں کے لشکر تک پہنچ گئے لہذا ابوبکرہ کہلائے یعنی چرخی والے مؤمن۔
۲
؎یعنی آسمان سے غیبی کنڈا اترا جس میں آپ کے ساتھ حضرت صدیق کو اس طرح تولا گیاکہ ایک پلڑ ے میں آپ تھے دوسرے میں حضرت صدیق آپ کا پلڑا اونچا ہوگیا حضرت صدیق والا پلڑا نیچا یعنی آپ وزنی رہے حضرت صدیق سے۔خیال رہےکہ مادیات میں وزنی پلڑا نیچے ہوتا ہے مگر نورانیت میں وزنی پلہ اونچا رہتا ہے ہلکا پلہ نیچا"اِلَیۡهِ یَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّیِّبُ"نور اوپر کو چڑتا ہے۔
۳
؎یہ وزنی ہونا ان بزرگوں کے درجات کی فضیلت کی بناء پر تھا کہ حضرت ابوبکر صدیق جناب عمر سے افضل اور حضرت عمر حضرت عثمان سے افضل۔
۳
؎خیال رہے کہ ان تینوں خلفاء کی خلافت راشدہ بھی ہے اور ان کی خلافتوں پر امت کا پورا اجماع بھی ہوا۔صدیق و فاروق کی خلافت پر از ابتدا تا انتہا،جناب عثمان کی خلافت پر از ابتداء اور حضرت علی کی خلافت راشدہ تو ہے مگر ان کی خلافت پر کبھی اجماع مسلمین نہ ہوا اول ہی سے اختلاف ہوا اور آخر تک رہا غالبًا اسی وجہ سے خواب میں حضرت علی رضی الله عنہ کا وزن نہ دکھایا گیا،خلفاء راشدین کاملین مجمع علیہم کا وزن دکھایا گیا۔
۵
؎گراں اس لیے گزرا کہ حضور انور صلی الله علیہ و سلم نے یہ معلوم فرمایا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بعد خلافت اسلامیہ کا زوال و انحطاط شروع ہوجائے گا کیونکہ وزن نہیں دکھایا گیا۔
۶
؎یعنی خلافت عثمانیہ کے بعد اسلام میں سلطنت و امارت قائم ہوجاوے گی۔ایسا ہی ہوا کہ حضرت عثمان کی شہادت کے بعد امیر معاویہ نے سلطنت قائم کرلی۔خیال رہے کہ خلافت،نبوۃ اور سلطنت میں فرق یہ ہے کہ خلافت نبوت میں لوگوں پر حکومت بھی ہے اور حضور صلی الله علیہ و سلم کی نیابت بھی کہ ان کی بیعت بیعت خلافت بھی اور بیعت ارادت بھی،لوگ ان کے رعایا بھی ہیں ان کے مرید بھی مگر سلطان کی بیعت بیعت حکومت تو ہے بیعت ارادت نہیں اور مسلمانوں کو کسی مرشد کا بیعت ہونا ہوگا،جانشینی رسول کا عہدہ ختم ہوگیا،سلطنت اسلامیہ بھی الله کی بڑی نعمت ہے۔گذشتہ کتب میں حضور کی صفات میں یہ بھی ذکر تھا کہ ملکہ بالشام اور ظاہر ہے کہ شام میں سلطنت امیر معاویہ کی ہی قائم ہوئی اسے حضورصلی الله علیہ و سلم کی سلطنت قرار دیا گیا۔
۷
؎یہ حدیث ابوداؤد نے کچھ فرق سے روایت کی ہے۔مسند امام احمد میں ہے کہ خود حضورانور نے یہ خواب دیکھا مگر اس میں یوں ہے کہ میں اپنی ساری امت سے تولا گیا تو میں وزنی ہوا،پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ ،پھرعمر رضی اللہ عنہ، پھر عثمان رضی اللہ عنہ ،باری باری سے میری ساری امت سے تولے گئے تو ان میں سے ہر ایک ساری امت سے وزنی ہوا پھر ترازو اٹھالی گئی،اس میں اشارہ اسی جانب ہے کہ ان تین خلافتوں پر ساری امت کا اجماع ہوگا۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6066