Main Icon

باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6057

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: إِنِّي لَوَاقِفٌ فِي قَوْمٍ فَدَعَوُا اللّٰهَ لِعُمَرَ وَقَدْ وُضِعَ عَلٰى سَرِيرِهٖ إِذَا رَجُلٌ مِنْ خَلَفِي قَدْ وَضَعَ مِرْفَقَهٗ عَلٰى مَنْكِبِي يَقُولُ: يَرْحَمُكَ اللّٰهُ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَجْعَلَكَ اللّٰهُ مَعَ صَاحِبَيْكَ لِأَنِّي كَثِيرًا مَا كُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «كُنْتُ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَفَعَلْتُ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَانْطَلَقْتُ وَأَبُوبَكْرٍ وَعُمَرُ وَدَخَلْتُ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَخَرَجْتُ وَأَبُوبَكْرٍ وَعُمَرُ ».فَالْتَفَتُّ فَإِذَا هُوَ عَلِيُّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن ابن عباس قال: إني لواقف في قوم فدعوا الله لعمر وقد وضع على سريره إذا رجل من خلفي قد وضع مرفقه على منكبي يقول: يرحمك الله إني لأرجو أن يجعلك الله مع صاحبيك لأني كثيرا ما كنت أسمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «كنت وأبو بكر وعمر وفعلت وأبو بكر وعمر وانطلقت وأبوبكر وعمر ودخلت وأبو بكر وعمر وخرجت وأبوبكر وعمر ».فالتفت فإذا هو علي بن أبي طالب. (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرمایا کہ میں ایک قوم میں کھڑا ہوا تھا کہ لوگوں نے جناب عمر کے لیے دعائیں کیں جب کہ وہ اپنے تختے پر رکھے گئے ۱؎کہ ایک شخص میرے پیچھے سے جس نے اپنی کہنی میرے کندھے پر رکھی کہنے لگا اتم پر رحمت کرے۲؎میں امید کرتا ہوں کہ الله تم کو اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ رکھے گا۳؎کیونکہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو یہ فرماتے بہت سنا تھا کہ میں اور ابوبکر اور عمر وہاں تھے اور میں نے اور ابوبکر و عمر نے یہ کیا اور میں اور ابوبکر و عمر چلے اور میں ابوبکر و عمر داخل ہوئے اور میں ابوبکر و عمر نکلے میں نے مڑ کر دیکھا تووہ علی ابن ابی طالب تھے۴؎(بخاری،مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی شہادت کے بعد آپ کو غسل دینے کے لیے تختہ پر رکھا،چونکہ آپ کی شہادت فقہی نہ تھی کہ آپ زخم کھا کر کئی دن زندہ رہے اس لیے آپ کو غسل دیا گیا۔شہید فقہی کو نہ غسل دیا جاوے نہ کفن،شہید فقہی میں ایک قید یہ ہے کہ زخمی ہوتے ہی وفات ہوجاوے دیر نہ لگے۔
۲
؎حضرت علی رضی الله عنہ کا یہ خطاب حضرت عمررضی الله عنہ کی نعش مبارک سے تھا ان سے کہہ رہے تھے کہ الله تم پر رحمت کرے۔خیال رہے کہ الله کی رحمت گنہگاروں پر مغفرت کی ہے،نیک کاروں پر کرم نوازی کی،حضرات صحابہ پر قرب خصوصی کی یہاں خاص رحمت مرادہے،الله کی رحمت کے سب حاجت مند ہیں مگر جیسا محتاج ویسی اس کی رحمت۔اس سے معلوم ہوا بزرگان دین بعد وفات سنتے ہیں ان سے خطاب کلام درست ہے۔
۳
؎یعنی حضور انور نے تم دونوں کے نام اپنے نام سے ملائے تمہارے کام اپنے متصل رکھے۔نام و کام کے متصل ہونے سے معلوم ہوتا ہے کہ مقام بھی متصل ہیں نام و کام پتہ دیتے ہیں مقام کا اور الله تعالٰی نے حضور انورصلی الله علیہ و سلم کے نام و کام کو اپنے نام سے متصل کیا ہے تو آپ کو رب سے بھی بہت قرب ہے۔
۴
؎حضرت علی مرتضٰی رضی اللہ عنہ اکثر حضرت عمر کی بہت تعریف کرتے تھے حتی کہ فرماتے تھے کہ اب زمین پر ایسا شخص نہ رہا کہ جس کے اعمال کی میں تمنا کروں اور فرمایا کرتے تھے کہ مجھے آرزو ہے کہ میں رب تعالٰی سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سے نیک اعمال لے کر ملوں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6057